سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 12 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 12

سبیل الرشاد جلد دوم 12 خدا کی خاطر ہر کام کیلئے تیارر ہیں غرض دنیا کے لئے یا دنیا والوں کی خاطر ہمیں کسی قسم کی ذلت و بے عزتی برداشت نہیں کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ باعزت اپنے ان بندوں کو ہی بنایا ہے جو اس کی طرف جھکتے ہیں اور اپنی ساری عزتوں کو اسی سے حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہی سرچشمہ ہے سب عزتوں کا لیکن خدا تعالیٰ کی خاطر تو ہمیں ہر کام کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اور جب تک ہم یہ کام نہیں کر سکتے ہم قرآن کریم نہیں پڑھا سکتے۔ایک موٹی مثال ہے۔اگر ہمارا کوئی نو جوان یا کوئی بڑی عمر کا آدمی (اس وقت میرے سامنے انصار ہی بیٹھے ہیں ) اس بات کا عادی نہ ہو یا ذہنی طور پر جو اس بات کے لئے تیار نہ ہو کہ ہمیں جہاں بھی بھیجا جائے یا جہاں بھی ہم جائیں گے ہم ہر قسم کی تکلیف اور گندگی کو برداشت کریں گے۔ہم اپنی عادت کے خلاف چیزیں کھائیں گئے لباس پہنیں گے اور کپڑے اوڑھیں گے کیونکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے کپڑے اتنے میلے ہو جائیں کہ آپ اپنے گھروں میں اتنے میلے کپڑوں میں نہ رہ سکیں تو ہم قرآن کریم پڑھانے کی مہم کیسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ہمیں روزانہ نہانے کی عادت ہے اور پھر کپڑے صاف رکھنے کی بھی عادت ہے لیکن قادیان میں خدام الاحمدیہ کے اجتماعوں میں ہمیں ہر قسم کا کام کرنا پڑتا تھا۔نیا نیا کام تھا، محنت زیادہ کرنی پڑتی تھی۔ان دنوں میں جب بعض اوقات ہم گھر جاتے تھے تو گردوغبار کی وجہ سے ہماری شکلیں نہیں پہچانی جاتی تھیں۔ہمارے جسم پر ایک ایک انچ مٹی چڑھی ہوئی ہوتی تھی اور ہمارے کپڑے بہت گندے ہوتے تھے۔لیکن اس وقت ہمیں بھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ یہ بھی کوئی چیز ہے اور اگر کوئی چیز ہے تو ایسی ہے جسے خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی زبان پر لاتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ایسا آدمی جو اتنی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتا عملاً اپنے رب کو کہہ رہا ہوتا ہے کہ اے میرے پیدا کرنے والے ! تو نے مجھ پر ان گنت نعمتیں کی ہیں لیکن میں تیری خاطر دس دن یا پندرہ دن یا ایک مہینہ اپنی عادت کے خلاف نہیں گزار سکتا۔عملاً ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔لیکن ذرا سوچو تو سہی کہ اگر یہی فقرہ ہماری زبان پر آجائے۔تو ہمیں کتنی شرم محسوس ہوگی۔مجھے تو اس کا خیال کر کے ہی شرم محسوس ہوتی ہے۔صحیح معنوں میں واقفین عارضی چاہیں غرض ہمیں واقفین عارضی چاہئیں اور ایسے واقفین عارضی چاہئیں جو صحیح معنی میں واقفین ہوں اور جہاں انہیں قرآن کریم پڑھانے کے لئے جانا ہے وہ ایسی جماعتیں ہوں جو نظام کی اطاعت کرنے والی ہوں۔اور اپنے اوپر بلا وجہ ان کا بوجھ نہ لینے والی ہوں ، ورنہ دو2 وفد وہاں جائیں گے یا چار وفد جائیں گے یا چھ وفد جائیں گے اور پھر وہ کوئی بہانہ آپ ہی سوچیں گے اور کہیں گے اب یہاں وفد کی کوئی۔