سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 13

13 سبیل الرشاد جلد دوم ضرورت نہیں۔مہربانی فرما کر اب کوئی اور وفد یہاں نہ بھیجیں۔اور اصل مطلب یہ ہوگا کہ جتنی مہمان نوازی ہم کر سکتے تھے وہ کر چکے ہیں۔اب ہم میں مزید مہمان نوازی کرنے کی طاقت نہیں۔پس ایک تو جماعتیں واقفین عارضی کو کھانا نہ کھلا ئیں واقفین اپنا کھانا خود پکائیں۔اور آپ واقفین دیں۔اگر تو اللہ تعالیٰ مجھے کوئی ایسی مشین دے دیتا کہ میں ضرورت کے مطابق انسان بنانے اور انہیں تیار کرنے کے بعد جماعتوں میں بھیج دیتا تو میں آپ سے واقفین عارضی کا مطالبہ نہ کرتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔جیسا یہ کام میرا ہے ویسا ہی آپ سب کا بھی ہے۔اور آپ میں سے کون ہے جو اس وقت کھڑا ہو کر کہے میرا دل نہیں چاہتا کہ جماعت کو قرآن کریم پڑھایا جائے۔میرے نزدیک انہیں جاہل رکھنا چاہئے اور انہیں قطعاً قرآن کریم نہیں پڑھانا چاہئے۔ہم میں سے نہ تو کوئی اپنی زبان سے یہ بات کہہ سکتا ہے نہ سوچ سکتا ہے اور نہ اس کے دماغ میں یہ بات آ سکتی ہے۔ایک احمدی کیلئے یہ بات بالکل ناممکن ہے۔اور جب یہ بات ہو تو جو مطالبہ ہماری دماغی کیفیت اور جماعت کی ضرورت کر رہی ہے وہ پورا کرنا چاہئے۔پس ایک ہزار آدمیوں سے کام نہیں بنے گا۔ابھی سال کے ختم ہونے میں کئی مہینے باقی ہیں۔میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ ممکن ہے اس سال پورے پانچ ہزار واقفین نہ ملیں بلکہ پہلے تو خیال تھا کہ شاید ایک ہزار واقفین بھی نہ ملیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار دے دیئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر بڑی بڑی جماعتیں وہ شہری ہوں یا قصباتی ہوں یا دیہی ہوں ، اس طرف توجہ دیں تو وہ پانچ ہزار کی تعداد بآسانی پوری کر سکتی ہیں۔سارے کام اللہ کے فضل سے ہوتے ہیں بعض لوگوں کو یہ خیال ہوتا ہے اور وہ دل میں حجاب محسوس کرتے ہیں کہ ہم زیادہ پڑھے ہوئے نہیں اس لئے ہم جا کر کیا کریں گے۔میں ایسے لوگوں کو کہتا ہوں کہ ہمارے واقفین عارضی کے بہت سے وفود ایسے بھی ہیں یعنی جو اسوقت تک کام کر چکے ہیں جو بالکل پڑھے ہوئے نہیں تھے اور انہوں نے بڑا ہی اچھا کام کیا ہے۔اس لئے اگر آپ اس نیت سے جائیں گے کہ آپ اپنے زورِ بازو سے وہاں کچھ کام کر کے دکھا سکیں گے تو پہلے دن ہی آپ ناکام ہوں گے۔لیکن اگر آپ اس احساس کے ساتھ جائیں گے کہ ہم میں ذاتی طور پر کوئی طاقت نہیں، ہم میں کوئی علم نہیں، ہم میں کوئی خوبی نہیں، ہماری زبانوں میں کوئی تا ثیر نہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل ہمارے شامل حال نہ ہو ہم کوئی کام نہیں کر سکتے تو ضرور آپ کامیاب ہوں گے۔بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان پڑھ لوگوں کو بھی باریک در بار یک باتیں سمجھا دیتا ہے۔قادیان کی بات ہے کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر لاہور سے کچھ طالب علم گئے ان میں ایک بی اے کا غیر احمدی