سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 11
سبیل الرشاد جلد دوم 11 ہوتے تو وہ مٹ چکے ہوتے۔حضرت خالد کا واقعہ جب شام میں زبر دست جنگ ہوئی ہے اس وقت حضرت خالد عراق میں تھے۔وہاں انہیں یہ حکم ملا کہ نصف فوج لے کر فورا شام پہنچو۔اس سفر میں حضرت خالد ایک ایسے صحرا میں سے گزرے جہاں کئی دن تک نہ تو انہیں کوئی آبادی ملی نہ کوئی چشمہ ملا نہ کنواں۔انہوں نے اونٹوں کے اس محفوظ پانی پر گزارا کیا۔کچھ پانی تو انہوں نے اپنے ساتھ مشکیزوں میں رکھا ہوا تھا لیکن جب وہ ختم ہو گیا اور پانی کی ضرورت پڑی تو انہوں نے اونٹوں کے جسموں کے ان مشکیزوں سے پانی نکال کر پیا اور شام پہنچ گئے۔اس کا ان کی صحتوں پر بھی کوئی بُرا اثر نہ پڑا۔اور غالباً اس لئے نہ پڑا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یقیناً اس لئے نہ پڑا کہ ایک تو وہ یہ کام خدا تعالیٰ کے نام پر کر رہے تھے اور دوسرے وہ ساتھ ساتھ دعا بھی کر رہے تھے۔وہ اس وقت اپنے رب کو کہتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ! تو نے بہترین پانی مسلمان کے لئے پیدا کیا ہے لیکن اگر تیری راہ میں ہمیں گندہ پانی بھی پینا پڑے تو ہم اس پر بھی راضی ہیں۔اس نیت کے ساتھ اور اس ذہنیت کے ساتھ انہوں نے وہ سفر کئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر برکتیں نازل کیں اور فتوحات کے دروازے آسمان سے ان پر کھولے اور اللہ تعالیٰ کے ہزاروں فرشتے کشتیوں اور ٹرے میں فتوحات لئے ان کے پاس پہنچے۔کیونکہ جن لوگوں کے ساتھ ان کا مقابلہ تھا ان پر آدمی فتح نہیں پاسکتے تھے جب تک کہ آسمانی افواج ان کے شامل حال نہ ہوتیں اور جب تک ان کی یہ نیت نہ ہوتی کہ ہم خدا تعالیٰ کے لئے ہر قسم کا دُکھ اور تکلیف برداشت کر سکتے ہیں حالانکہ وہ اتنے باغیرت تھے کہ دنیا کے لئے وہ کوئی ذلت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اگر کوئی بادشاہ بھی انہیں کہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔عرب کا ایک مشہور قصہ عرب کا ایک مشہور قصہ ہے۔کسی قبیلہ کا سردار تھا۔وہ اپنی مجلس میں بات کر رہا تھا کہ کیا کوئی مجھے سے بھی زیادہ باغیرت ہے۔کسی نے کہا فلاں شخص ہے۔اس کے گھرانے میں بڑی غیرت ہے۔چنانچہ اس سردار نے اس شخص کو اور اس کے ساتھ اس کی ماں کو بلایا اور جب اس کی ماں مکان کے اندر گئی تو اس نے اپنی بیوی یا ماں سے کہا تم اس سے کہنا کہ کوئی معمولی سا کام کر دو۔چنانچہ اس نے اسے کوئی معمولی سا کام کرنے کو کہا تو اس نے شور مچا دیا کہ ہماری بے عزتی ہو گئی۔باہر جب اس کے بیٹے نے آوازسنی تو اس نے اسی سردار کی تلوار جو خیمے میں لٹکی ہوئی تھی لے کر اس کا سر قلم کر دیا۔