سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 278
278 سبیل الرشاد جلد دوم اس کی عبارت پڑھ کر پتہ لگتا تھا کہ وہ قرآن کریم کا حصہ نہیں۔بلکہ انسان کی بنائی ہوئی عربی ہے۔میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑ رہا کہ انہوں نے یہ کیوں کیا اور نہ اُن پر اس وقت تنقید کرنا میرے مد نظر ہے۔میں تو یہ بتا رہا ہوں کہ قرآن کریم سے بعد اور دُوری اور اسے مہجور سمجھ لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنہوں نے قرآن کریم کے اس نسخے کو جو ہمارے ہاتھوں میں ہے محرف اور مبدل ہونے کا اعلان کیا اُن کے متعلق تو کوئی شور نہیں مچایا۔لیکن جنہوں نے یہ اعلان کیا کہ اس کا ایک حرف بلکہ اس کا ایک شعشہ بھی نہیں بدل سکتا، اُن کے متعلق کہ دیا جاتا ہے کہ انہوں نے قرآن کریم میں تحریف کر دی ہے۔چنانچہ جب یہ مطالبہ کیا گیا کہ قرآن کریم کا تحریف شدہ نسخہ تو ہمیں بتاؤ۔ہم بھی تو دیکھیں تم نے کیا معرکہ مارا ہے۔مگر کسی سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔تو اب آہستہ آہستہ اس طرف آرہے ہیں کہ قرآن کریم کی معنوی تحریف کی گئی ہے جس کی واضح مثال ہفت روزہ چٹان ہے۔جو آہستہ آہستہ یہ خیال کر رہا تھا کہ اُس نے غلطی کی کہ قرآن کریم کی لفظی تحریف کا لکھ دیا۔چنانچہ اُس نے اپنے ٫۵نومبر ۱۹۷۳ء کے شمارہ میں لکھا : پچھلے دنوں مرزائیوں نے قرآن کریم کے ترجمہ میں تحریف و تغلیط کر کے جو قرآن شائع کیا اور اس کی تقسیم کے لئے جو طریق اختیار کیا وہ اب ڈھکا چھپا نہیں کھل کر سامنے آچکا ہے۔“ پس معلوم ہوا کہ مخالفین کے نزدیک ہم پر ترجمہ میں تحریف و تغلیط کا الزام ہے۔اور یہ ایک عجیب فقرہ ہے۔قرآن کریم کا کوئی ترجمہ جس کے متعلق مترجم نے یہ دعوی کیا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی وحی نے اُسے یہ ترجمہ سکھایا ہے ، اس کے متعلق تو یہ اعلان ہو سکتا ہے کہ اس میں تحریف کی گئی حالانکہ وہ خدا کی وحی تھی۔لیکن اگر کوئی ایسا ترجمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کی وحی نے نہیں سکھا یا اس کے بارہ میں تحریف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وہاں تو اختلاف کا سوال پیدا ہوتا ہے۔غرض ہر وہ تفسیر جس کے متعلق تغییر کرنے والے نے یا آیت کا معنی کرنے والے نے یہ اعلان کیا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ تفسیر سکھائی ہے اور یہ معنی بتائے ہیں۔اگر اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا کوئی برگزیدہ شخص یہ کہتا ہے کہ یہ غلط ہے۔اور رڈ کر دینے کے قابل ہے تو پھر تو تمہارا یہ حق ہے کہ تم یہ کہو کہ جو معنی اور تفسیر وحی الہی کے نتیجہ میں انسان کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔اس کو تم رڈ کرتے ہو اور اس کے مقابلہ میں ایک دوسری تفسیر پیش کرتے ہو تو پھر تو یہ واقعی تحریف ہوگئی۔لیکن وحی کا دروازہ تم نے بند کر دیا ہوا ہے اور جو انسان کی تفسیر ہے اس میں تحریف کے اعتراض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس کا تو تصور بھی