سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 279

279 سبیل الرشاد جلد دوم نہیں کیا جا سکتا۔پس یہ غلط فقرہ ہے جو محض فتنہ وفساد پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔جہاں تک تغلیط یعنی غلط ترجمہ کا سوال ہے شیعوں کا ایک ترجمہ ہے۔بریلویوں کا دوسرا ترجمہ ہے۔دیو بندیوں کا تیسرا ترجمہ ہے۔اسی طرح فرقہ وارانہ عقائد کے نتیجہ میں ترجمے بدل گئے یا زمانہ، زمانہ کے لحاظ سے ترجموں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔مثلاً جب اردو میں ترجمے ہونے لگے تو جن لوگوں نے سب سے پہلے ترجمے کئے اُن کو تر جمہ کرنے میں بڑی دقت پیش آئی۔اُن کے سامنے کوئی ترجمہ نہ تھا جو ان کی اس کوشش کی بنیاد بن سکے۔تاہم انہوں نے بڑی کوشش، محنت اور دعاؤں کے ساتھ اپنے اپنے زمانہ کے حالات کے لحاظ سے اور ذہنی صلاحیتوں کے نتیجہ میں جو ترجمے کئے وہ بعد کے زمانہ میں آکر بدل گئے۔کیونکہ بعض نے لفظی ترجمہ کیا اور معنوں کو سامنے نہیں رکھا۔شاید اس لئے کہ وہ ڈرتے ہوں گے کہ لوگ کہہ دیں گے یہ تم نے کیا کر دیا ؟ تم نے خود ہی قرآن کریم کے معنے سمجھانے شروع کر دیئے ہیں یا انہوں نے یہی ضرورت سمجھی ہوگی کہ عربی الفاظ کا ترجمہ کر دیتے ہیں بعد میں آنے والے خود ہی دعاؤں کے بعد تفسیری معانی سیکھ جائیں گے۔پھر جب اردو زبان نے ترقی کی اور بیچ میں حالات زمانہ میں ایک نیک تبدیلی رونما ہوئی تو بعد میں آنے والے لوگوں نے ترجمے بدل دیئے مگر ان بدلے ہوئے ترجموں کو باوجود اس حقیقت کے کہ یہ پہلوں سے مختلف ہیں ، آپ تغلیط تو نہیں کہہ سکتے اور نہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تحریف ہے۔غرض عملاً دیکھنے میں یہ آیا کہ قرآن کریم کا ایک ترجمہ ہوا جو پہلوں سے مختلف تھا۔پھر اس کے بعد ایک اور وہ بھی مختلف تھا۔مترجم نے اپنی سمجھ کے مطابق اور تفسیر جو کسی کے دماغ میں آئی اس کے مطابق ترجمہ کر دیا۔پھر زمانہ، زمانہ کے حالات مختلف تھے۔زبان ارتقائی ادوار میں سے گزرتی ہے، اس لئے تراجم مختلف ہو گئے۔پھر کسی کے سامنے یہ تھا کہ قرآن کریم جو عربی میں ہے عربی کے ہر لفظ کا ترجمہ سکھا دیا جائے۔ذہین آدمی خود ہی اس سے استدلال کرلے گا۔کسی کو خدا تعالیٰ نے تفسیر سکھائی۔اس نے اس تفسیر کے مطابق قرآن کریم کا ترجمہ کیا۔اب اسے ہم اختلاف تو کہہ سکتے ہیں مگر ترجمے کے اختلاف، تغلیط یا تحریف نہیں کہہ سکتے البتہ غلط ترجمہ کئے جانے کا امکان رہتا ہے اور وہ یہ کہ جب ایک شخص نے یا بہت سے اشخاص نے جو مختلف تراجم کئے ہوئے ہوں وہ پہلوں کے ترجموں سے مختلف بھی ہوں اور لغت عرب بھی اُن کی مستعمل نہ ہو۔پھر تو یہ تغلیط ہے اسے ہم غلط ترجمہ کہیں گے۔مثلاً ایک لفظ ز کسی ہے۔عربی لغت اس کے پندرہ سولہ معنے بتاتی ہے۔پندرہ سولہ معنوں میں یہ لفظ عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے۔مثلاً زکوۃ ، تزکیہ وغیرہ۔مجھے یاد ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی تفسیر میں ایک جگہ اس لفظ کے پندرہ سولہ معنوں میں سے منتخب کر کے غالبا گیارہ معنے لئے ہیں اور ان کو حل لغت میں درج کر دیا ہے۔یہ بتانے کے