سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 277 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 277

سبیل الرشاد جلد دوم 277 کے نتیجہ میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو کم از کم تفسیر کی اُن کتب کا تو اُن کو علم حاصل ہونا چاہئے جن کے متعلق یہ مان چکے ہیں کہ فلاں فلاں تفسیری کتب بڑے پایہ کی کتب ہیں۔اس اعتراض کی دوسری شکل یہ سامنے آئی کہ جماعت احمدیہ نے نعوذ باللہ قرآن کریم بدل دیا ہے۔اس پر لوگوں نے بڑا شور مچایا اور ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا اور ایک فتنہ برپا کر دیا۔حتی کہ یہ بات ہماری اسمبلی میں نمائندگان تک جا پہنچی کہ دیکھو قرآن کریم میں تحریف ہوگئی۔بڑا ظلم ہو گیا۔احمدی لوگ کافر اور اسلام کے دشمن ہیں اس لئے کہ یہ قرآن کریم میں تحریف کرتے ہیں مگر جب کہا گیا کہ وہ قرآن ہے کہاں؟ جس میں تحریف کی گئی ہے تو سب خاموش ہو گئے کیونکہ نہ کوئی ایسا قرآن ہے اور نہ پیش کیا جا سکتا ہے۔اُمت مسلمہ میں وہ لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی سینکڑوں آیات کو منسوخ سمجھ لیا۔چنانچہ علماء متقدمین کے نزدیک قرآن کریم کی پانچ سو سے زائد آیات منسوخ سمجھی گئی ہیں پھر ابن عربی کے زمانہ میں منسوخ ہونے والی آیات کی تعداد ہیں تک پہنچی ہے اور پھر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے سامنے جب مسیح آیات کا مسئلہ پیش ہوا تو انہوں نے ان کی تعداد پانچ بتائی۔مگر جب مہدی معہود مبعوث ہوئے تو آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کی کوئی آیت تو کیا اس کا کوئی شععہ کوئی زیر یا کوئی زبر اور نقطہ تک منسوخ نہیں ہوسکتا۔جنہوں نے پانچ سو سے زیادہ آیات کو منسوخ سمجھا اور اس کا اعلان کیا وہ تو تمہارے نزدیک تحریف کرنے والے نہیں تھے لیکن جس وقت امام وقت یا جس مہدی معہود علیہ السلام نے دنیا میں یہ اعلان فرمایا کہ قرآن کریم کی کسی آیت کے منسوخ ہونے کا سوال تو در کنار اس کا کوئی شعفہ یا نقطہ یا زیر اور زبر تک بھی منسوخ نہیں ہو سکتی وہ آج تحریف کرنے والے ٹھہرے۔اُمّتِ مسلمہ میں ایک فرقہ وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو ہمارے ہاتھوں میں ہے جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بڑی محنت کر کے اکٹھا کیا تھا ( ویسے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھا گیا تھا) اور اسے صحیح ترتیب دے کر اس کو قرآن کریم کی موجودہ شکل میں جمع کیا تھا۔یہ ہمارے ہاتھوں میں چلا آ رہا ہے۔مگر ایک فرقہ امت مسلمہ میں ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ یہ قرآن تحریف شدہ ہے اس میں سے کئی سورتیں نکال دی گئی ہیں۔اور اس میں گویا بڑی زبردست تحریف کر دی گئی ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے پٹنہ میں خدا بخش لائبریری میں قرآن کریم کا وہ نسخہ دیکھا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ صحیح ہے۔اس میں ایک سورت وہ بھی تھی جس کا نام سورۃ علی تھا۔الفوز الکبیر فی اصول التفسیر صفحہ ۱۶ تا ۱۸ مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مطبوعہ ( فارسی )لاہور مطبع علیمی۔تفسیر صافی صفحه ۱۳