سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 276
276 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں اُن کا ایک ورق آج ہمارے سامنے ہے۔اور وہ یہ کہ جماعت احمدیہ پر تحریف قرآن کا فتویٰ لگایا جا رہا ہے اور ملک میں فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ کہہ کر کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ نے قرآن کریم میں تحریف کی ہے۔یہ الزام تین شکلوں میں عائد کیا گیا ہے۔گزشتہ سال یہ فتنہ سب سے پہلے بلوچستان میں کھڑا کیا گیا۔اور جیسا کہ مجھے وثوق سے بتایا گیا ہے، وہاں کے علماء نے جو اپنے آپ کو مذہبی قائد سمجھتے ہیں، یہ شور مچا دیا کہ دیکھو کہ کتنا ظلم ہو گیا ! جماعت احمد یہ قرآن کریم کے مقطعات کا ترجمہ کرنے لگ گئی ہے۔( بعض سورتوں سے پہلے آنے والے حروف مثلا الم۔الرا۔وغیرہ کوحروف مقطعات کہتے ہیں ) یہ تو بڑا ظلم ہو گیا۔جماعت احمدیہ نے یہ بدعت شروع کر کے بڑا ظلم کیا۔احمدی گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوئے اور کافر بن گئے۔وجہ یہ کہ انہوں نے حروف مقطعات کا ترجمہ کر دیا ہے۔علاوہ اس کے کہ ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ ان حروف کا ترجمہ کیا جائے۔ہماری تاریخ بھی یہ کہتی ہے کہ ان کا ترجمہ کیا گیا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک یعنی مہدی معہود علیہ السلام کے زمانہ تک ان کا ترجمہ ہوتا چلا آیا ہے۔صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حروف کا ترجمہ کیا۔اُن کے بعد آنے والوں نے ترجمہ کیا۔غرض احادیث کی بعض کتب میں عموماً اور ہماری تفسیر کی کتب میں خصوصاً اور بڑی کثرت کے ساتھ مقطعات کے ترجمے موجود ہیں ہمارے دوسرے لٹریچر میں بھی ان کے ترجمے پائے جاتے ہیں۔مگر اب قرآن کریم سے گویا اتنا بعد اور دُوری پیدا ہو گئی ہے کہ جو ماضی کی باتیں تھیں یا جو کتاب مکنون کے حصے کتاب مبین میں بدل چکے تھے اُن کا بھی علم نہیں رہا۔صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر دُکھ دہ یہ حقیقت ہے کہ ان میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں جو کھڑا ہو کر یہ کہے کہ تم کیا با تیں کر رہے ہو۔ان حروف کے ترجمے تو پہلے ہو چکے ہیں۔اب یا تو یہ جہالت کی انتہاء ہے اور یابُزدلی کی انتہاء ہے۔کوئی ایک شخص بھی کھڑا ہو کر یہ نہیں کہتا کہ تم نے کیا شور مچارکھا ہے ، مقطعات کے ترجمے تو ہمیشہ سے ہوتے چلے آرہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک ان کا ترجمہ اور تفسیر بیان ہوتی چلی آئی ہے۔ان کے معانی و مطالب بیان کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔بایں ہمہ ہم پر یہ اعتراض کر دیا کہ ہم نے حروف مقطعات کا ترجمہ کیوں کیا ہے۔جب میں نے یہ باتیں سنیں تو مجھے دراصل اس وجہ سے زیادہ دُکھ ہوا کہ دیکھو اس قوم نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب کو مہجور بنا دیا ہے۔اس میں اُن کی اتنی دلچسپی بھی نہیں رہی کہ قرآن کریم کی جو تفسیر پہلے بیان ہو چکی ہے اُس کا تو علم حاصل کریں۔اگر آج کی قرآنی تفسیر کو اُن کے دل اپنے گنا ہوں تفسیر کبیر رازی بجوشانی صفحہ سے تفسیر ابن کثیر اردو پارہ نمبر ۲۵ تفسیر روح البیان جو اول صفحه ۲۰