سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 231
231 سبیل الرشاد جلد دوم کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کی جسمانی طاقتوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچا دیا۔مگر ہم نے اس ملک میں اپنی جسمانی طاقتوں کو کمال تک نہیں پہنچایا۔لیکن ہم مفلوج نہیں ہم کمزور ہیں۔یعنی Constitutionally Weak جسمانی ساخت کے لحاظ سے کمزور ہیں۔یعنی جسمانی طور پر ہر پہلو سے ہم کمزور ہیں۔لیکن مفلوج نہیں۔پھر ایسے ملک ہیں جنہوں نے اخلاق کو تو لے لیا لیکن وہ روحانی قوتوں کو بھول گئے۔وہ بھی ایک لحاظ سے مفلوج ہیں۔لیکن ان کے وجود کا ایک چوتھائی حصہ فالج زدہ ہے۔جنہوں نے اخلاق کو چھوڑا ان کے آدھے جسم پر فالج کا حملہ ہے۔جن کو علم سے کوئی مس نہیں ، وحشی قبائل ہیں۔ان کا تو کوئی قصور نہیں۔یہ سرمایہ دار قوموں کا قصور ہے کہ انہوں نے اپنی خود غرضی کی وجہ سے ان کو علم نہیں سکھایا۔ان کی ہے قوتوں پر فالج کا اثر ہے اور جو جسمانی لحاظ سے بھی کمزور ہیں۔ان کا تو گویا کوئی عضو بھی ہل نہیں رہا۔بہر حال اسلام نے یہ کہا ہے کہ تمہاری ان علاقوں میں بھی ضرورت ہے۔یعنی تمہاری اور تمہاری کوششوں کی اور تمہارے عمل کی تمہارے مجاہدہ کی اور تمہاری دعاؤں کی ان علاقوں میں بھی ضرورت ہے جن کے نہ جسم اچھے نہ ان کے ذہن اچھے نہ ان کے اخلاق اچھے اور نہ ان میں روحانی اقدار پائی جاتی ہیں۔اسی طرح تمہیں ان سرحدوں پر بھی جانا ہوگا کہ جہاں تمہیں ایسے لوگ ملیں گے کہ ان کے جسم تو اچھے ہیں لیکن ان کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی نشو و نما نہیں ہوئی۔تمہیں ان سرحدوں پر بھی جانا پڑے گا۔جن کے جسم بھی اچھے جن کی ذہنی نشو ونما بھی ہوئی ہوئی ہے۔لیکن اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو و نما نہیں ہوئی۔تمہیں ان سرحدوں پر جانا پڑے گا جن کی جسمانی، ذہنی اور ایک حد تک اخلاقی قوتوں کی نشو ونما تو ہوئی ہے لیکن ان کی روحانی نشو و نما نہیں ہوئی۔تمہیں ان سرحدوں تک بھی جانا پڑے گا جن کی جسمانی ذہنی اخلاقی اور ایک حد تک روحانی نشو ونما ہوئی ہے لیکن کامل طور پر نہیں ہوئی۔لیکن چونکہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ قوتوں کی کامل نشو ونما ہونی چاہئے۔اور قوتوں کو کمال نشو ونما تک پہنچانے کے لئے اپنے نفس کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی کوشش کرنی چاہئے۔پس ایک احمدی کی ذہنیت یہ ہونی چاہئے اور ایک احمدی کو یہ عرفان ہونا چاہئے کہ وہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اسی اہم غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔وہ محض اس لئے نہیں پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے نفس کی ضرورتوں کو پورا کرے اور اپنے نفس کے چار قسم کے قومی کی نشو و نما کو کمال تک پہنچائے نہ وہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے خاندان ، اپنے دوستوں یا اپنے قبیلے کی یا اپنے ملک کی ہر چہار قسم کی قوتوں کی نشو و نما میں حصہ لے اور ان کو کمال تک پہنچانے کی کوشش کرے۔بلکہ اسے تو خدا تعالیٰ نے ساری دنیا کا خادم بنایا ہے کوئی ایک آدمی کا خادم بنتا ہے۔کوئی دو کا خادم بنتا ہے۔گاؤں کا چوکیدار ہے وہ اس گاؤں کا خادم ہے۔ضلع کا