سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 230
230 سبیل الرشاد جلد دوم شامل کرتے ہیں۔جو آپ کے روحانی بچے تھے اور جو آپ سے پہلے آئے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی خاتم النبین تھے۔سارے انبیاء علیہم السلام کا روحانی تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی ہے۔جیسے ایک بچے کا باپ کے ساتھ ہوتا ہے۔لیکن اُن کو چونکہ ایک وقت تک ایک خاص قوم کی طرف ان کی مخصوص بُرائیاں دور کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔وہ اپنا کام کر گئے تو ان کی ضرورت نہ رہی۔پھر اگلا نبی آ گیا۔چنانچہ جس وقت عیسائیت اپنی نہایت گری ہوئی زندگی میں داخل ہو رہی تھی۔اس وقت اُن لوگوں کے ساتھ ان روسی کمیونسٹوں وغیرہ کا واسطہ پڑا جو مذہب کا نام لیتے تھے مگر خود بداخلاقیوں میں ملوث تھے۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے کہا مذ ہب کیا ہوتا ہے اور یہ اخلاق کیا ہوتے ہیں۔اگر یہ پادری مذہب کے نمائندے ہیں تو تو بہ بھلی ہمیں ان کی ضرورت نہیں اور اس لحاظ سے ان کا نتیجہ ٹھیک ہے کیونکہ ان کے اپنے اخلاق نہیں تھے۔مذہب جس غرض کے لئے پیدا کیا گیا اس غرض کی کوئی جھلک ان کی زندگیوں اور کوششوں اور ان کے عمل میں نظر نہیں آ رہی تھی۔میں نے بڑے بڑے اشترا کی لیڈروں کی کتابوں میں خود پڑھا ہے کہ اخلاق کوئی چیز نہیں وہ کہتے ہیں جو چیز ہمارے منصوبہ میں ( جو انہوں نے بنایا ہے وہ اچھا ہے یا بُرا اس کے متعلق میں اس وقت کچھ نہیں کہہ رہا ) مد ہے وہ اخلاق ہے بہر حال انہوں نے اخلاق کا مذاق اڑایا اور مذہب اور اخلاق کو چھوڑ دیا یہ گویا بعض لحاظ سے مفلوج اقوام ہیں۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ان کی حالت بالکل اس آدمی کی ہے جس کے ایک بازو پر فالج گرے تو دوسرا باز و کام کر رہا ہوتا ہے یا اس کی ایک لات حرکت بھی نہیں کر رہی ہوتی اور دوسری میں پوری طاقت ہوتی ہے۔یا مثلاً اس کے چہرے کا ایک حصہ لقوہ کی وجہ سے ٹیڑھا ہو جاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ بالکل ٹھیک ہوتا ہے یا اس کی ایک آنکھ پر اثر ہوتا ہے تو دوسری ٹھیک ہوتی ہے تو اس طرح انسان کی جو انسانی زندگی ہے اور میں انسانی زندگی کی یہ تعریف کروں گا کہ اس سے مراد انسان کی وہ زندگی ہے جس میں اس کا جسم جس میں اس کا ذہن جس میں اس کی اخلاقی قوتیں اور جس میں اس کے روحانی قومی ایک جیسی مناسب نشو و نما حاصل کرنے کے بعد ایک صحت مند فرد کی شکل میں اسے دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔پس اس لحاظ سے روس مفلوج ہے گو اس نے جسمانی لحاظ سے بڑی ترقی کی ہے مثلاً اب ہمارے اتھلیٹ بھی باہر جاتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا کہ کہاں ہیں۔وہ ان روسیوں کی ہوا کو بھی نہیں پہنچتے۔پس یہ جسمانی طاقت کی نشو و نما ہی ہے جس کے نتیجہ میں وہ سو گز کی دوڑ میں بھی آگے نکل گئے۔جس کے نتیجہ میں ( کبڈی انہوں نے کھیلنی شروع نہیں کی گشتی شروع کر دی اور وہ کشتی میں آگے نکل گئے۔