سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 223
سبیل الرشاد جلد دوم 223 اس کے دوسرے پہلو کے بارہ میں جس کا تعلق أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سے ہے اس کے متعلق میں آج کچھ زیادہ تفصیل کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔جب یہ کائنات پیدا کی گئی جس میں تسخیر ہو جانے کا مادہ رکھا گیا اور جب انسان کو قو تیں اور استعداد میں دی گئیں جن کی روح اشیائے عالم کو تسخیر کرنا ہے یعنی اس کائنات کی تمام چیزوں کو حسب ضرورت اور استعداد کام پر لگانا ہے تو اس سلسلے میں عقلاً دو نظریے قائم ہوئے۔ایک کو اسلام نے دھتکار دیا اور ایک کو اسلام نے اپنالیا۔چنانچہ ایک نظریہ یہ ہے کہ انسان کہتا ہے۔میں ہوں۔میرے لئے دنیا میں یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے میں اپنے نفس کی خاطر اور اپنے وجود کی خاطر اور اپنے خاندان کی خاطر اور اپنے بیوی بچوں کی خاطر محنت کروں گا۔میں کماؤں گا۔میں گندم پیدا کروں گا۔خود کھاؤں گا اور دوسروں کو کھلاؤں گا اور اس طرح میری زندگی کا مقصد پورا ہو جائے گا۔پس ایک یہ نظریہ ہے جسے اسلام نے دھتکار دیا اور رڈ کر دیا ہے۔اس کو قبول نہیں کیا۔مگر جو لوگ دنیا دار ہیں۔انہوں نے اس نظریے کو قبول کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ خدا نے دنیا کو ہمارے لئے پیدا کیا ہے اور ہم اس سے فائدہ اٹھائیں گے یا جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کچھ ایسی بنائی گئی ہے کہ جو ہماری محنت اور کوشش کے اثر کو قبول کرتی اور ہمیں فائدہ پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے لہذا ہم اس سے فائدہ حاصل کریں گے۔میں ایک فرد کے لحاظ سے اور ہم ایک قوم کے لحاظ سے جتنا کما سکیں گے اور جس طرح کما سکیں گے ہم کمائیں گے اور فائدہ اٹھائیں گے۔اس نظریے میں کوئی اخلاقی پابندیاں تسلیم نہیں کی گئیں۔جہاں تسلیم کی گئیں ( دنیا کی عقل کی میں بات کر رہا ہوں ) وہاں بھی وہ ظاہری لحاظ سے تھیں۔کیونکہ بعض لوگ اس وقت تک اخلاقی پابندیوں کو مانتے نظر آتے ہیں۔جب تک کہ ان کا ذاتی یا قومی مفاد اس کو برداشت کرتا ہو۔جب ان کے قومی یا ذاتی مفاد کے خلاف بات ہو جائے تو پھر ان اخلاقی پابندیوں کے قائل نہیں رہتے۔یہ نظریہ آگے پھر دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔دنیا کا ایک وہ حصہ جنہوں نے بحیثیت قوم سب کچھ اپنا ہی سمجھ لیا۔اور کہہ دیا کہ بس خدا نے سب کچھ انگلستان میں بسنے والوں کے لئے پیدا کیا ہے۔چنانچہ آج سے دو سال پہلے انگریزوں نے یہ سمجھا کہ جہاں سے ہمیں مال و دولت اور آرام و آسائش کے سامان مل سکتے ہیں۔ہم دنیا میں نکلیں گے اور وہاں سے حاصل کریں گے چنانچہ وہ ہندوستان میں آئے اور ہمیں لوٹا اور پھر افریقہ میں گئے وہاں سے انہوں نے دولت سمیٹی اور وہاں کے رہنے والوں کا کوئی خیال نہیں کیا۔وہ امریکہ میں گئے۔امریکہ کی آج اور