سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 224
224 سبیل الرشاد جلد دوم حالت ہے۔آج سے چند سو سال قبل اس کی حالت یہ نہیں تھی۔وہاں ریڈ انڈینز (Red Indians) کے نام سے بعض قبائل رہائش پذیر تھے۔انگریز وہاں جا پہنچے اور ان کا بڑی بُری طرح سے قتل عام کیا کہ اب بھی اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حتی کہ وہ ملک جس کے وہ باشندے تھے اس میں ان کا زندہ رہنا ناممکن بنا دیا گیا۔پھر بعد میں جب ان کو لوٹ لاٹ لیا اور جب پچاس فیصد اور بعض جگہ تو نوے فیصد قبیلے مارے گئے تو دنیا کو دکھانے کے لئے اُن پر گویا یہ بڑی مہربانی کی اور بڑا احسان کیا کہ زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعے بنا دیے تاکہ وہ ان پر آباد ہوں اور زندگی کے دن گزار ہیں۔اس کو اخلاق نہیں کہتے۔یہ تو جب اعتراضات زیادہ پڑنے لگے تو ان سے بچنے کے لئے جو اُن کا (ریڈ انڈینز کا ) اپنا تھا یعنی جو ان کی ملکیت تھی۔اس میں سے ہزارواں حصہ دیا اور کہہ دیا دیکھو ہم تم پر کتنا احسان کر رہے ہیں۔ابھی تک، میں سمجھتا ہوں ان کے یعنی ریڈ انڈینز اور جو باہر سے لٹیرے گئے ہوئے تھے ان کے درمیان صحیح معنوں میں مساوات نہیں پائی جاتی۔۔پھر یہ انگریز آسٹریلیا پہنچ گیا اور وہاں کچھ لوگ تھے ان کو Aborigines کہتے ہیں۔ان کا بُری طرح قتل عام کیا۔کچھ ان میں سے بچ گئے ہیں۔ورنہ یہ تو ان کو بالکل مٹا دینا چاہتے تھے۔حالانکہ وہ اتنا بڑا علاقہ ہے کہ کوئی ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس کو ابھی تک پوری طرح آباد نہیں کر سکے۔بہر حال بڑا لمبا زمانہ گزر گیا۔اسی طرح جہاں بھی انگریز گئے وہاں ان کی یہ ذہنیت کارفرما رہی کہ جو کچھ اس دنیا کا مل سکتا ہے ، لے لو۔خواہ اس سے دنیا کے کتنے بڑے حصے کو ، دنیا کی کتنی اقوام کو اور کتنے کروڑوں انسانوں کو تکلیف پہنچے بس لوٹ مار کر و۔دولت سمیٹو اور اپنے گھروں کو لے جاؤ۔پھر یہی انگریز آئس لینڈ پہنچے اور وہ بے چارے غریب جن کا تمدن پرانا تھا یعنی یہ صحیح ہے کہ وہ اس قسم کے تہذیب یافتہ نہیں تھے گویا ان کو سگریٹ کی عادت نہیں تھی۔انگریز نے کہا ہم تمہیں مہذب بناتے ہیں یہ لوسگریٹ پیو، تمبا کو استعمال کرو۔یہ شراب لو۔اس کا استعمال کرو۔اور جو اُن کی دولت تھی وہ سگریٹوں کے پیکٹ کے بدلے سمیٹ کر چلتے بنے۔مثلاً ان کی دولت تھی۔برف میں اللہ تعالیٰ نے جو جانور پیدا کئے ہیں۔ان کی کھالیں یعنی سمور جو بڑی قیمتی چیز ہے۔وہ وہاں سے لوٹ کر لے آئے اور بھی جتنی بھی ان کی دولت تھی وہ سگریٹ کے بدلے میں لے آئے ان کو سگریٹ کا نشہ لگایا۔شراب کا نشہ لگایا۔اور ان کا سب کچھ لوٹ کر لے آئے۔میں نے خود وہاں انگلستان کے لوگوں کے مضمون پڑھے ہیں بعض لوگوں میں کہیں کہیں شرافت پائی جاتی ہے وہ اُبھر آتی ہے۔انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ انگریز آئس لینڈ کے باشندوں کا سب کچھ چھین کر لے گئے ہیں۔تو یہ گویا کوئی Isolated یعنی یہ نہیں کہ یہ کوئی اتفاقی