سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 189 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 189

سبیل الرشاد جلد دوم 189 پاکیزگی کا تعلق اس سے ہے کہ اس نے جو فیض حاصل کیا ہے۔اپنے رب سے اسے وہ آگے پہنچا تا ہے۔اگر وہ ظاہری طور پر پاکیزہ نہیں یعنی جب وہ ملاپ کرتا ہے دوسروں سے تو ان پر پاک اثر نہیں چھوڑ تا تو وہ خدا کا بندہ کیسے ہوا ، خادم کیسے بنا۔اس نے پھر دوسروں کے لئے ایثار کیسے کرنا ہے۔تو قدم صدق کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے نزدیک وہ اس کا ایسا بندہ ہے کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو باطنی پاکیزگی کے ساتھ آتا ہے اور جب وہ غیر سے ملاپ کرتا ہے تو وہ پاک اور مطہر اثر کئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ہماری زندگی کا مقصد اگر یہ چیز آپ میں پیدا ہو جائے تو آپ بڑی جلدی دنیا کے دل جیت لیں گے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔پھر میں آپ کو سمجھانے کے لئے کہتا ہوں۔کئی نئے آئے ہیں۔کئی کم علم ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ ہم کچھ بن جائیں۔ہماری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جلال اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا میں قائم ہو جائے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم غالب آئیں گے تو ہمارا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہمیں کوئی دنیا کی ہوس یا لالچ ہے یا ہم اقتدار چاہتے ہیں یا مال و دولت چاہتے ہیں۔ہمارا تو یہ محاورہ ہے کہ ہم غالب آئیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وعدے جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں وہ جماعت کے حق میں پورے ہوں گے۔اور وہ یہ وعدہ نہیں کہ مرزا عبدالحق یا مرزا ناصر احمد کو کچھ ملے گا۔وہ وعدہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا مل جائے گی۔تو یہ وہ غلبہ ہے جس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں۔جس کے لئے ہم مجاہدہ کر رہے ہیں ، جس کے لئے ہم جد و جہد کر رہے ہیں ، جس کے لئے ہم عاجزانہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں ، جس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کے متلاشی ہیں ، جس کی وجہ سے ہم یہ ہر وقت چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔جس کے لئے ہم اس امید میں زندگی گزار رہے ہیں کہ ہمیشہ اس کی نگاہ میں ہمیں پیار ملے۔ایک دوسرا اقتباس بھی ہے جس میں ایسے نکات تھے کہ جس پر میں تفصیلی روشنی ڈالنا چاہتا تھا۔وہ میں صرف پڑھ دیتا ہوں کہ اس کا تسلسل جو چھپا ہے سامنے آ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس قادر اور سچے اور کامل خدا کو ہماری روح اور ہمارا ذرہ ذرہ وجود کا سجدہ کرتا ہے جس کے ہاتھ سے ہر ایک روح اور ہر ایک ذرہ مخلوقات کا مع اپنی تمام قوے سے ظہور پذیر ہوا اور جس کے وجود سے ہر ایک وجود قائم ہے اور کوئی چیز نہ اس سے باہر ہے اور نہ اس کے تصرف، سے نہ اس کی خلق سے۔نسیم دعوت صفحه اروحانی خزائن جلد ۱۹صفحه ۳۶۳