سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 188 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 188

188 سبیل الرشاد جلد دوم بیسیوں سینکڑوں آیات ہیں لیکن اس آیت کو اس لئے میں نے انتخاب کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہ ہو۔تو اطاعت کے کسی درجہ سے جو شخص چاہتا ہے کہ محروم نہ ہو اس کو ہر وقت چوکس اور ہوشیار رہنا پڑے گا۔کیونکہ جوشخص چوکس اور ہوشیار نہیں رہتا وہ کسی وقت غفلت سے اطاعت سے خارج ہو جائے گا۔قرآن کریم نے بھی یہ کہا ہے کہ اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہ ہو۔میں نے شروع میں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآن کریم کی تعلیم ہی ہمارے سامنے پھر از سر نو رکھ رہے ہیں اور وہ عظیم بشارتیں اور عظیم تعلیم ہے۔قرآن کریم یہاں یہ فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو وَاعْمَلُوا اور ہر وقت ہوشیار ہو کہیں ایسا نہ ہو شیطان کا کوئی داؤ لگ جائے اور کسی ایک پہلو سے بھی تم اطاعت سے باہر نکل جاؤ۔ہر وقت بیدار اور ہوشیار اور چوکس رہو تا کہ تمہاری اطاعت کسی درجہ پر محرومی کا رنگ اختیار نہ کر لے۔اگر تمہارا ایمان ایسا ہی پختہ ہو گا تو خدا کا وعدہ دیکھو کتنا عظیم اور حسین ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بشارت دی ہے اور کہا ہے کہ جماعت کو یہ سنا دو کہ ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہ ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔یہ قرآن کریم کا محاورہ ہے۔دسویں سورۃ کے شروع میں کہ ظاہری و باطنی قرب اور پاکیزگی جو ہے اس کو عربی محاورہ میں قدم صدق“ کہتے ہیں یعنی اندرونی طور پر بھی پاک اور بیرونی طور پر بھی پاک۔تو فرمایا کہ بیرونی پاکیزگی کا دراصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اس دنیا میں اکیلا تو نہیں ، اس کا ملاپ ہوتا ہے دوسروں سے۔اس کا اپنا خاندان ہے، بچے ہیں، بزرگ ہیں، ہمسائے ہیں ، محلہ والے ہیں، شہر ہے، دنیا ہے ، ہر سطح پر اس کے ملاپ ہوتے ہیں تو بیرونی پاکیزگی کا دراصل مطلب یہ ہے کہ جہاں بھی غیر کے ساتھ ملاپ ہوا وہ پاک اثر اپنا اس کے اوپر چھوڑتا ہے، باقی تو اس کی تفصیل ہے۔تو جسم بھی بیرونی چیز ہے وہ پاک ہونا چاہیئے۔اگر گند لگا ہوا ہو گا تو بد بو آئے گی۔اگر وہ اس کی استطاعت کے مطابق پروا نہیں کرے گا تو اس کے اوپر اچھا اثر نہیں چھوڑے گا۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ کپڑے پاک رکھو لیکن اصل بنیادی چیز یہ ہے کہ جہاں اس کا غیر کے ساتھ ملاپ ہوا ہے وہاں وہ پاک اور نیک اثر ڈالتا ہے۔یہ ہے ظاہری پاکیزگی۔اور باطنی پاکیزگی کا یہ مطلب ہے کہ جہاں اس کا ملاپ ہوا اپنے رب کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ بھی یہی دیکھتی ہے کہ میرا یہ بندہ پاک اور مطہر ہو کر میرا قرب حاصل کرنے کے لئے آیا ہے تو چونکہ وہ پاک ہے اور نا پاک سے وہ تعلق قائم ہی نہیں کرتا۔پس اللہ تعالیٰ باطنی پاکیزگی پسند کرتا ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور ظاہری اقَدَمَ صِدق (یونس آیت ۳)