سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 184

184 سبیل الرشاد جلد دوم خدا تعالیٰ سے قوتِ احسان کو پانا ہے وہ کسی سے ڈر کیسے سکتا ہے؟ وہ تو اسی آیت پر عمل کرے گا۔فَلَا تَخْشَوْا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ جو شخص یہ کہے کہ خدا سے نہ ڈرو ہم سے ڈرو تو وہ قرآن کریم پڑھ لے اور اپنے متعلق آپ ہی فیصلہ کر لے کہ وہ کس دماغ کا آدمی ہے۔ہمیں کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ہمیں تو یہ حکم ہے کہ کسی انسان سے نہیں ڈرنا کسی انسان کا خوف دل میں نہیں لانا، کسی کی خشیت پیدا نہیں کرنی سوائے اللہ تعالیٰ کی خشیت کے۔ہم تو اللہ تعالیٰ سے خوفزدہ ہیں۔ہم تو ہر وقت کا نپتے رہتے ہیں۔جب ہم اپنی عاجزی کو دیکھتے ہیں ، جب ہم اپنی کم مائیگی کو دیکھتے ہیں ، جب ہم اپنی کم علمی کو دیکھتے ہیں، جب ہم ان ذمہ واریوں کو دیکھتے ہیں جو بڑی عظیم بھی ہیں جو ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں۔ہم محسوس کرتے ہیں کہ محض اپنی طاقت یا علم یا دولت یا قربانی یا ایثار کے نتیجہ میں ہم یہ دولت سنبھال نہیں سکتے۔اُس وقت ہم خوف سے کانپنے لگ جاتے ہیں۔جب ہم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو دیکھتے ہیں۔جب ہم اس کی صفت غنا پر نظر ڈالتے ہیں کہ اس کو تو کسی کی احتیاج نہیں ، ہم ہی اس کے محتاج ہیں۔تو ہمارے دل میں بڑا خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم اپنی کوتاہی کے نتیجہ میں اس سے دور نہ جا پڑیں۔وہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔یہ خشیت اور یہ خوف تو ہمارے دل میں ہے لیکن وہ ہمارا پیارا اور محبوب ہمیں کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کی خشیت تمہارے دل میں پیدا نہ ہو۔اب ہم خدا تعالیٰ کے حکم کو مانیں ، ہم قرآن کریم پر عمل کریں یا لوگوں کے جو نعرے ہیں ان سے خوف زدہ ہو جائیں۔ایک مومن تو ایسا نہیں کر سکتا۔ہم عاجز بھی ہیں ، کمزور بھی ہیں۔ہم اثر ورسوخ بھی نہیں رکھتے۔نہ ہمارے پاس اقتدار ہے نہ حکومت ہے نہ اس کی خواہش رکھتے ہیں۔بع د مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا ہمیں ان ملکوں سے کیا ! ہم تو اس دنیا کے ملک کی ہوس نہیں رکھتے۔یہ جذبہ ہے جس نے افریقہ میں اثر کیا۔یہ جذبہ ہے جو ساری دنیا پر اثر کرے گا۔میں ان کو کہتا تھا کہ پچاس سال سے ہم تمہارے اندر کام کر رہے ہیں۔کئی سو سال ہوئے عیسائی تمہارے پاس آئے۔پادریوں نے یہ دعوی کیا تھا کہ ہم خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لے کر تمہارے پاس آئے ہیں۔یہ ہم تسلیم کرتے ہیں اور تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ ان پادریوں کی صفوں کے پیچھے یورپین اقوام کی جو فوجیں تمہارے ملک کے اندر داخل ہوئی تھیں اور ان کے ساتھ جوتو ہیں تھیں۔ان سے پھول نہیں جھڑے تھے۔ان سے گولے بر سے تھے اور انہوں نے جو تمہارا حلیہ کیا۔اس کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔یورپین اقوام افریقنوں کی ہر نعمت چھین کر اپنے ممالک میں لے گئیں یہ ایک حقیقت ہے ، وہاں نائیجیریا کے سربراہ مملکت یعقو بو گوون کو بھی میں نے کہا۔اس وقت