سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 185
185 سبیل الرشاد جلد دوم مجھے نائیجیریا میں پہنچے ہوئے دو تین دن ہوئے تھے۔میں نے جو دو تین دن مشاہدہ کیا ، اُس کے متعلق اسے کہا کہ تمہارے ملک اور قوم میں آکر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں ( اور کل میں نے ایک احمدی سے اس کا ذکر بھی کیا تھا کہ میں نے گوون سے یہ ذکر کیا تھا ) کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر ایک نعمت سے نوازا تھا اور ان یورپین اقوام نے خدا کی ہر نعمت کو تم سے چھین لیا اور اسے وہ اپنے ملکوں میں لے گئے۔وہ مجھے کہنے لگے۔"How ture you are۔How true you are۔" یہ کتنی سچی بات آپ کہہ رہے ہیں۔تو یہ ایک حقیقت ہے۔اور میں انہیں کہتا تھا کہ ہمیں یہاں آئے ہوئے پچاس سال ہو گئے ہیں۔پہلے ہم نے تھوڑے پیمانہ پر کام کیا۔پھر وہ بڑھا اور کافی بڑھا۔ہم باہر سے پیسہ لائے اور تمہارے ملکوں پر خرچ کیا۔تمہارے ملکوں سے پیسہ کمایا، تھوڑ انہیں کمایا بڑا کمایا۔کا نو کے ہمارے مشن نے کوئی پندرہ بیس ہزار پونڈ سے زیادہ Save کیا ہوا تھا۔ہمیں ہزار پونڈ ہو تو چار لاکھ روپیہ ہوتا ہے۔ان کو ہدایت کی گئی کہ ساری کی ساری رقم اس Health Centre پر خرچ کر دو۔اور اس سے ایک نہایت خوبصورت ہسپتال بن گیا۔عوام کو بھی پتہ ہے، حکومتوں کو بھی پتہ ہے۔تو میں نے انہیں کہا تمہاری دولت میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔جو کماتے ہیں تمہارے اوپر خرچ کر دیتے ہیں۔جو کسی اور جگہ سے ہمارے احمدی کما رہے ہیں۔وہ بھی لا کر تمہارے اوپر خرچ کر دیتے ہیں، تو تمہیں پتہ ہے کہ ہماری للچائی ہوئی نظر تمہاری دولت پر نہیں پڑی۔نہ ہم اقتدار کے بھوکے ہیں۔ہمیں کیا ملکوں سے ہمیں کیا تاجوں سے ہمیں کیا ان ملکوں کے سر براہوں سے۔ہم تو خادم پیدا ہوئے ہیں اور اسی میں ہماری لذت، اور اسی میں ہماری نجات ہے اور یہ چیز ان پر بڑا اثر کرتی تھی۔پہلے تو خاموش احساس تھا، کچھ نیم بیدار احساس تھا تو میں اس کو جھنجھوڑتا تھا۔میں ان کو پورا بیدار کرتا تھا۔میں ان کو بتاتا تھا کہ یہ زندگی کی حقیقت ہے۔تمہیں سمجھنا چاہئیے۔ہم تمہارے بھائی بھی ہیں۔ہم تمہارے خادم بھی ہیں۔ہم تمہارے برابر بھی ہیں۔یہ چیز ان کو آج تک کسی نے نہیں دی۔یعنی عیسائیت وہاں کئی سو سال رہی ہے۔انہوں نے مساوات کا نام نہیں لیا۔پادری بھی اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتا تھا اور وہاں کے عوام کو کچھ نہیں سمجھتا تھا۔وہ پیار کے بھو کے ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ وہ جو پیرا مونٹ پرافٹ تھا ( پیرامونٹ ان کا محاورہ ہے ) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوسب سے بڑے نبی تھے۔خاتم الانبیاء اور افضل الانبیاء تھے۔ان کے منہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ کہلوایا۔قُلْ إِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُم کہ تم دنیا میں یہ منادی کر دو کہ میں بھی تمہارے جیسا انسان ہوں اور تم بھی میرے جیسے انسان ہو۔انسان ہونے کے لحاظ سے میری برتری نہیں ہے۔ہم برابر ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا سب سے زیادہ محبوب اور تمام انبیاء سے افضل تھا اس کے منہ سے قرآن کریم نے یہ کہلوایا۔تو وہ انبیاء جو آپ کے ماتحت تھے اور آپ سے چھوٹے تھے۔جیسے حضرت موسیٰ