سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 178

178 سبیل الرشاد جلد دوم تھا۔بے سہارے کے تو وہ جوانی بھی نہیں گزار سکتا۔اگر کسی نے پڑھنا ہے تو استاد کا سہارا چاہئے۔پہلے ماں باپ کا سہارا تھا جو لگا ہی رہتا تھا زندگی بھر۔پھر استاد کا سہارا ہے۔پھر دوستوں کا سہارا ہے، پھر جتھے کا سہارا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ نے تدبیریں پیدا کی ہیں۔لیکن ایک وہ شخص ہے جو تد بیر کوتد بیر سمجھتا ہے، اللہ تعالے کی عطا سمجھتا ہے۔تد بیر کو خدا نہیں سمجھتا۔تو انسان کی طرح یا مخلوق کی طرح اللہ تعالے ناقص نہیں ہے، اپنی قوت اور طاقت کے اندر اور اپنے متصرف بالا رادہ ہونے کے لحاظ سے ساری طاقتوں کا منبع اور سر چشمہ وہی ہے۔خدا کہتا ہے میں تمہیں یہ دوں گا۔منافق کہتا ہے اللہ تعالیٰ نہیں دے سکتا یا دینا نہیں چاہتا یا وہ اللہ تعالے کی پاک ذات کی نیت پر حملہ کرتا ہے یا اس کی طاقت پر حملہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور جو عظیم وعدے میرے ذریعہ سے آج تم سے کئے گئے ہیں وہ تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب تمہارے ایمان میں نفاق نہ ہو اور تم اس قسم کے نہ ہو زبان کے لحاظ سے یا قول کے لحاظ سے یا فعل کے لحاظ سے یا فکر کے لحاظ سے کہ تم یہ سمجھو کہ اللہ تعالے وعدہ دیتا ہے مگر پورا نہیں کرتا۔یہ تو منافقوں کا اعلان ہے۔مومن کا اعلان تو نہیں۔الغرض مومن کا ایمان نفاق سے آلودہ نہیں ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اے میری جماعت خدا نے مجھے کہا ہے کہ میں تمہیں بتا دوں گا کہ تمہارا ایمان نفاق سے آلودہ نہیں ہونا چاہئے۔نتیجہ آگے نکلتا ہے وہیں میں اکٹھا نکالوں گا۔ایمان بزدلی کی آلودگی سے منزہ نہ ہو اسی طرح ایمان بزدلی سے آلودہ نہ ہو۔بزدلی شرک ہے جو شخص اللہ کے علاوہ کسی اور سے ڈرتا ہے وہ مشرک ہے۔جو شخص دوسرے کی دولت سے خائف ہے کہ وہ اپنی دولت کا استعمال کر کے خدا کی منشاء کے خلاف میرا نقصان کر دے گا یا جو شخص دوسرے کے جتھے سے خوف کھاتا ہے یا جو شخص دوسرے کے شور مچانے سے خوف کھاتا ہے۔ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ جب چاروں طرف سے دوسرے شور مچاتے ہیں مرزائی کا فر ، مرزائی کا فر تو وہ ڈر جاتے ہیں۔مرزائی کا فر کی آواز تمہارے کان میں خدا تعالے کی زبان سے نہیں پڑی اور جو کسی غیر اللہ کی زبان سے آواز نکل رہی ہو اس سے تمہیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔آخر یہ دھمکیاں ، یہ فتوے یہ منصوبے یہ جوش و خروش آج تو نہیں پیدا ہوا اسی سال پہلے سے یہ شروع ہیں۔اسی سالہ کفر کے فتوؤں کا نتیجہ پتہ ہے کیا نکلا؟ پہلا نتیجہ تو یہ نکلا کہ اسی سالہ گالیوں اور کفر کے فتوؤں نے ہمارے چہروں سے مسکراہٹیں نہیں چھینیں۔ہم آج بھی اس طرح ہشاش بشاش ہیں۔ہمارے مسکراتے چہرے ہیں۔ہماری بشاشت ہم سے کون چھین سکتا ہے۔جو شخص اپنے رب کی نگاہ میں پیار دیکھتا ہے وہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا، چاہے ساری دنیا اس کی مخالفت پر کمر بستہ کیوں نہ ہو اسی سالہ شور و غوغا نے ہم ۸۰ ۸۰