سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 162
سبیل الرشاد جلد دوم 162 كم لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ میں آج خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت یوم الدین کا مظہر ہونے کی حیثیت میں اپنی بادشاہت اور مالکیت کا اعلان اس رنگ میں کرتا ہوں کہ تمہارے سارے قصوروں کو معاف کرتا ہوں۔آج تمہیں تمہاری بداعمالیوں کی سز انہیں دی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صفت مالکیت یوم الدین کے مظہر ہونے کا نتیجہ صحابہ کرام کو یہ ملا کہ انہیں اسی دنیا میں ہی صفات باری کی معرفت اور ذات باری سے محبت عطا کی گئی۔اس سے بہتر اور کوئی جزا نہیں ہوسکتی تھی۔جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت پیدا ہو جائے اور جو روحانیت اور عقل کے لحاظ سے تمام صفات باری کو سمجھنے لگے اور ان کا عرفان رکھے اُس کے لئے اس سے زیادہ اور کیا نعمت ہو سکتی ہے۔یہ اس سعادت عظمی کی جھلک ہے جو انسان حشر کے دن دیکھنے والا ہے لیکن اس کو بھی ہم سعادت عظمیٰ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی محبت جب دل میں موجزن ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان ہو جس کے نتیجہ میں یہ ذاتی محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کے حسن اور اس کے احسان کی معرفت انسان پالے اور حق الیقین کے ساتھ یہ جانے کہ اصل حسین حسن کا منبع اور اصل محسن۔احسان کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اسی سے ہمیں ہر چیز لینی چاہئیے اور اس سے ہمیں ہر چیز ملے گی۔اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے۔غرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات الصفات کے مظہر اتم تھے اور باقی صفات کے بھی مظہر تھے اور اس وجہ سے انسان تا قیامت آپ کے فیوض اور برکات سے حصہ لیتا رہے گا۔صحابہ کرام کو اور پھر بعد میں آنے والوں کو قیامت تک کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا یہ حکم ہے کہ جس طرح میرا یہ پیارا میری صفات کا مظہر بنا تم بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے میری صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرتے رہنا کہ اس کے بغیر تمہیں حقیقی فلاح اور حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ سورۃ فاتحہ میں مذکورالہی صفات کی تفسیر کرنے کے بعد یہ لکھا ہے کہ ہماری جماعت کا اولین فرض ہے کہ وہ ان چار صفات کا رنگ اپنے اندر پیدا کرے۔اور آپ نے دوسری جگہ مختصراً اس مضمون کو بیان کیا ہے۔میں بھی شاید اس وقت مختصراً ہی بیان کروں گا کیونکہ کافی دیر ہو چکی ہے۔جہاں آپ نے جماعت کو تاکید کی ہے وہاں آپ فرماتے ہیں کہ اگر آپ لوگ جو میری جماعت میں شامل ہوئے ہو یہ چار صفات اپنے اندر قائم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تو آپ اس دعا کے پڑھنے میں سراسر جھوٹے ہوں گے جو آپ پانچ وقت ہر روز نماز میں پڑھتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ آپ نے فرمایا