سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 163
سبیل الرشاد جلد دوم 163 ہے کہ جماعت کو بحیثیت جماعت اور افراد جماعت کو بحیثیت افراد اس قسم کا نمونہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا اپنی زندگیوں میں ظاہر کرنا چاہئیے کہ ان کی ہمدردی کا میدان اتنا وسیع ہو کر تمام چرند اور پرند اور کل مخلوق اس میں آ جائے۔یہ حکم ہے ہمیں ربوبیت کے مظہر بنے کا اور اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے اس کی حفاظت کرنے کے لئے۔) ربوبیت عالمین سے جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا کوئی مخلوق باہر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کی ربوبیت کی ہے۔اُس نے سور کی بھی ربوبیت کی ہے۔اس نے ہر ذرے کی ربوبیت کی ہے اور وہ ہر وقت ربوبیت کر رہا ہے۔وہ اس ربوبیت سے غافل نہیں ہے کیونکہ اللہ کی اگر نعوذ باللہ یہ ممکن ہوتا اور ایسا ہو جاتا تو ایک لحظہ کی غفلت اس عالمین کی ہلاکت پر منتج ہوتی۔اس کے نتیجہ میں ساری مخلوق ہلاک ہو جاتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ عالمین کی ربوبیت کر رہا ہے تم بھی خدا تعالیٰ کی اس صفت کے مظہر بنتے ہوئے دوسروں کی ربوبیت کرو۔تم بھی اپنی استعداد کے مطابق اس کی کل مخلوق کی ربوبیت کرو، جس میں چرند اور پرند اور انسان سب شامل ہیں بلکہ وہ مخلوق بھی شامل ہے جو اس معنی میں زندہ نہیں جس معنی میں چرند پرند اور انسان زندہ ہیں۔تمہاری ہمدردی ، تمہاری غم خواری اور تمہارے احسان کا دائرہ اتنا وسیع ہونا چاہئے کہ وہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے اندر رحمانیت کی صفت بھی جلوہ گر ہونی چاہئے۔جس کے نتیجہ میں جاندار مخلوق کی ہمدردی تمہارے اندر خاص طور پر پائی جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسوہ ہمارے سامنے رکھا۔ذرا ذراسی چیز کو ہم دیکھتے ہیں تو عجیب محبت دل میں پیدا ہوتی ہے، عجیب حسن اس جگہ نظر آتا ہے مثلاً فرمایا ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے مسخر کی گئی ہے اس لئے تم حسب ضرورت جانوروں کا گوشت کھا سکتے ہو۔تم جانداروں کی جان لے سکتے ہو۔یعنی جو جانور حلال کئے گئے ہیں ان کی جان لے سکتے ہو۔اس لئے فرمایا تم بسم اللہ پڑھ کر اس کی جان لو۔بسم اللہ پڑھ کر اس کا گوشت کھاؤ۔کیونکہ تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ تم اس کی جان لیتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے جلوہ سے تمہیں اس کی اجازت دی ہے لیکن تم دو چیزوں کا خیال رکھو ایک تو یہ کہ تم نے بلاضرورت کسی جانور کی جان نہیں لینی۔کئی لوگ محض شو (Show) کے لئے متعدد جانور ذبح کر دیتے ہیں۔عرب لوگ اونٹ کا گوشت استعمال کرتے تھے۔اب دوسو مہمان ہیں ان کے لئے ایک اونٹ کافی ہے لیکن میزبان یہ بتانے کے لئے کہ میں بڑا امیر ہوں دوسو مہمانوں کے لئے ہیں اونٹ ذبح کر دیتے تھے یا ایک ایک مہمان کے لئے ایک ایک اونٹ ذبح کر دیتے تھے۔ایسا کرنے کی اجازت اسلام نے نہیں دی کیونکہ کسی جاندار کی جان لینا اتنا