سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 118
118 سبیل الرشاد جلد دوم نہیں اسے جو مقام بھی حاصل ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا مقام ہے نہ اس میں اپنی کوئی طاقت نہ اس میں اپنا کوئی علم۔پس اس شخص کو نہ دیکھو اس کرسی کو دیکھو جس پر خدا اور اس کے رسول نے اس شخص کو بٹھا دیا ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جس خلافتِ راشدہ کے وقت میں جتنے زیادہ خلفاء اس دوسرے سلسلہ کے ہوں گے یعنی سلسلہ خلافت ائمہ کے جو مضبوطی کے ساتھ اس کے دامن کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور جن کے سینہ میں وہی دل جو خلیفہ وقت کے سینہ میں دھڑک رہا ہے دھڑک رہا ہوگا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ ان کو طاقت بخشتی رہے گی۔آپ کے رُوحانی فیوض سے وہ حصہ لیتے رہیں گے، اتنا ہی زیادہ اسلام ترقی کرتا چلا جائے گا اور دُنیا میں غالب آتا چلا جائے گا اور غالب رہتا چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کے فضلوں کو انسان حاصل کرتا چلا جائے گا۔لیکن جو شخص خلافت راشدہ کے دامن کو چھوڑتا اور خلافت راشدہ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، اُس شخص پر خدا تعالیٰ اپنی حقارت کی نظر ڈالتا ہے اور وہ اس کے غضب اور قہر کے نیچے آ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا سامان پیدا کرے کہ ہم میں استثنائی طور پر بھی کوئی ایسا بد قسمت پیدا نہ ہو۔اب میں دُعا کر وا دیتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اللہ تعالیٰ ان تمام وعدوں کو آپ کے اور آپ کی نسلوں کے وجود میں پورا کرے جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کو اُمتِ مسلمہ کے افراد ہونے کی حیثیت میں دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر طرح آپ کا حافظ و ناصر ہو۔اپنے نفسوں کے شر سے بھی آپ کو محفوظ رکھے اور دوسرے کے نفسوں کے شر سے بھی آپ کو محفوظ رکھے۔فرشتوں کا پہرہ آپ پر ہمیشہ رہے۔خدا اور اس کے فرشتوں کی محبت کے بول آپ کے کانوں میں ہمیشہ پڑتے رہیں۔آپ کی آنکھیں اس کے نور سے ہمیشہ منور رہیں۔آپ کے سینے اس کی قدوسیت سے ہمیشہ تزکیہ حاصل کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر رنگ میں آپ کے ساتھ ہو اور آپ کے ساتھ رہے۔آمین روزنامه الفضل ربوہ سالانہ نمبر ۱۹۶۸ء صفحه ۳ تا ۱۲)