سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 119
سبیل الرشاد جلد دوم 119 سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہتعالیٰ کا افتاحی خطاب فرموده ۲۴ را خاء ۱۳۴۸ هش ۲۴ را کتوبر ۱۹۶۹ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے انصاراللہ مرکزی کے چودہویں سالانہ اجتماع کے موقع پر مورخ ۲۴ را خاء ۱۳۴۸اهش ( ۲۴/اکتوبر۱۹۶۹ء) کو جو افتتاحی تقریر فرمائی تھی۔اس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔قرآن کریم کی تلاوت اور نظم کے بعد سید نا حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔دوست اب دعا کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے با برکت کرے، دینی لحاظ سے بھی اور دنیوی لحاظ سے بھی۔اللہ تعالیٰ دوستوں کو یہاں پر نیک باتیں سننے اور پھر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سعی مشکور کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری عاجزانہ کوششوں کو قبول کرے اور ان میں جو کمزوریاں اور خامیاں رہ جائیں اُنہیں اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور ہم اپنی زندگیوں میں غلبہ اسلام کی ان بشارتوں کو پورا ہوتے دیکھ لیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں دی گئی ہیں۔اس کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔حضور کی اقتداء میں انصار نے عہد دُہرایا اور پھر عطائے علم انعامی کے بعد حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ھے در دلم جو شد ثنائے سرورے میں اپنی بھی یہی کیفیت پاتا ہوں۔اس وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام اور آپ کی سیرت کے بعض پہلوؤں کو بیان کر کے ان کے نتیجہ میں ہماری جماعت پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ان کی طرف آپ دوستوں اور بھائیوں کو متوجہ کروں گا۔جب سے کہ انسان اس دُنیا میں پیدا ہوا ہے۔انسانوں میں صاحب اقتدار بادشاہ یا ڈکٹیٹر یا صدر بنتے رہے ہیں۔بعض اچھے تھے۔بعض بُرے تھے۔بعض نے اپنے اور اپنے خاندان کے ذاتی مفاد کی خاطر بادشاہت کی اور رعایا کا خیال نہ رکھا۔ایک اور گروہ تھا جس نے ایک حد تک بادشاہ ہونے اور اقتدار کے جو اصول تھے ان کو بنایا۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا اور خلق خدا کی بھلائی کی کوشش کرتے