سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 117

سبیل الرشاد جلد دوم 117 بلعم باعور بن جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا ان سے تعلق قطع ہو جاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ جاتے ہیں۔لیکن جب تک ان کا رشتہ قائم رہتا ہے خلافت راشدہ کا خلیفہ ان تمام کا سردار ہوتا ہے اور بڑا خوش قسمت ہے وہ خلیفہ وقت جس کے ماتحت دوسروں کی نسبت زیادہ اس دوسرے سلسلہ کے خلفاء وائمہ موجود ہوں کیونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی طاقت دی ہے، ایسے ہتھیار دیئے ہیں جو بعض دوسروں کو نہیں دیئے۔اسی لئے ایک موقع پر حضرت علیؓ کو یہ کہنا پڑا جس وقت کسی نے اعتراض کیا تو آپ نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خدا نے میرے جیسے انسان دیئے تھے اور مجھے تمہارے جیسے انسان دیئے ہیں۔تو یہ سلسلۂ خلافت تو ہزاروں خلفاء پر مشتمل ہے لیکن جب تک خلافت راشدہ کسی شکل میں رہے یا رہی یہ ہزاروں خلفاء، خلیفہ راشد کے ماتحت ہوں گے پہلے سلسلۂ خلافت کی ایک شاخ تو جو بعد نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ خلفاء ومجد دین پر مشتمل تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ختم ہو گئی۔اگلی صدی کے مجدد کی ہر ایک کو تلاش کرنی چاہئے لیکن ہر آنے والی صدی کے سر پر جو شخص مجدد کی تلاش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( جو آخری ہزار سال کے مجدد ہیں ) کے علاوہ کوئی ایسا چہرہ دیکھتا ہے جو آپ کے خلیفہ کا نہیں ، آپ کے خلل کا نہیں ، وہ بچے مجد د کا چہرہ نہیں دیکھتا لیکن پہلے سلسلۂ خلافت کی دوسری شاخ اور وہ بھی خلافتِ راشدہ کا حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اظلال کی شکل میں جا رہی ہے۔آپ فرماتے ہیں تم ایمان کی اور اعمالِ صالحہ کی شرط پوری کرتے رہنا، تمہیں قدرت ثانی کے مظاہر یعنی خلافت راشدہ کا اللہ تعالیٰ قیامت تک وعدہ دیتا ہے۔خدا کرے کہ محض اسی کے فضل سے جماعت عقائد صحیحہ اور پختہ ایمان اور طیب اعمال کے اُوپر قائم رہے تا کہ اس کا یہ وعدہ قیامت تک جماعت کے حق میں پورا ہوتا رہے اور جب تک یہ سلسلہ خلافت جاری رہے گا اور قائم رہے گا وہ ہزاروں لاکھوں خدا کرے کہ کروڑوں خلفاء جو دوسرے سلسلۂ خلافت میں منسلک ہیں یعنی سلسلۂ خلافت ائمہ، میں خلیفہ راشد کے ماتحت ہوں گے اور اس کی اطاعت میں اپنا فخر سمجھیں گے اور اس کی اطاعت سے ہر برکت اور فیض حاصل کریں گے۔وہ اس حقیقت پر قائم ہوں گے اور ان کو ان کا رب سمجھا دے گا کہ جو شخص وقت کے امام کو پہچا نتا نہیں اور اس سے روگردانی کرتا ہے وہ اللہ کے حکم سے روگردانی کرنے والا ہے۔پس اے میرے عزیز بھائیو! جو مقامات قرب تمہیں حاصل ہیں اگر انہیں قائم رکھنا چاہتے ہو اور روحانیت میں ترقی کرنا چاہتے ہو تو خلیفہ وقت کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا کیونکہ اگر یہ دامن چھوٹا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوٹ جائے گا کیونکہ خلیفہ وقت اپنی ذات میں کوئی شے