سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 95 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 95

95 سبیل الرشاد جلد دوم سکھایا کرتا تھا اور آپ نے جو بھی فرمایا وہ قرآن کریم کی تفسیر ہی ہے۔قرآن کریم سے زائد کوئی بات آپ نے نہیں کی۔اس وقت حوالہ تو میرے پاس نہیں لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد دوسری جگہ بھی وضاحت کے ساتھ اس بات کو بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول اور ہر ارشا د قرآن کریم کی تفسیر ہی ہے جیسے آپ کا ہر فعل اور عمل قرآن کریم ہی کی تفسیر ہے۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب پوچھا گیا تو آپ نے کہا اگر آپ کے اخلاق معلوم کرنا چاہتے ہو تو قرآن کریم پڑھ لو۔قرآن کریم نے جو کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کر دکھایا۔تو آپ کے اخلاق تو قرآن کریم میں تحریر ہیں کیونکہ آپ کے افعال اور اعمال عین قرآن کریم کے مطابق ہیں ان سے باہر نہیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجد د آیا کرے گا یہ قرآن کریم کی کس آیت کی تفسیر ہے پھر ہمیں اس حدیث کے صحیح معنی معلوم ہوں گے ورنہ ہم غلطی کھا جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد بار اور بڑی وضاحت اور تفصیل سے بیان کیا ہے کہ یہ حدیث قرآن کریم کی آیت استخلاف کی ایک تفسیر ہے۔اس آیت میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں اور متعدد سلسلہ ہائے خلافت کا ذکر ہے اور ایک بات کی تفسیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کی کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجد د دین پیدا ہو گا۔اس لحاظ سے اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بغور مطالعہ کریں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ جہاں بھی آپ نے تجدید دین پر کوئی بحث کی یا کوئی نکتہ بیان کیا وہاں اس نکتہ کو بیان کرتے ہوئے آپ نے خلافت کا ضرور ذکر کر دیا۔(إِلَّا مَا شَاءَ الله ) تو آپ نے اپنی ساری بحث میں وضاحاً بھی اور اشارہ بھی یہ بتایا ہے کہ خلافت اور تجدید دین ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور یہ وعدہ جو دیا گیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجد د آئے گا وہ آیت استخلاف کے وعدے کا ایک حصہ ہے۔آیت استخلاف میں اس وعدہ سے زیادہ وعدہ دیا گیا ہے یعنی مختلف شکلوں میں خلافت کے قیام کا وعدہ ہے۔ایک شکل وہ ہے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ارشادات میں جو دوسری شکلیں خلافت کی ہیں ان پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔خلافت کے معنی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ : خلیفہ کے معنے جانشین کے ہیں جو تجدید دین کرے۔نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں انہیں