سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 96 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 96

سبیل الرشاد جلد دوم " 96 خلیفہ کہتے ہیں۔پس خلیفہ کے معنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جانشین کے ہیں جو ضرورت کے وقت تجدید دین کی خاطر آئے اور ان میں صحیح رُوح اسلامی پیدا کرے اور بدعات کو اسلام سے باہر نکال کر پھینک دے اور ایسے سامان پیدا کرے اُمت مسلمہ کے لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بن سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت استخلاف میں جو گما“ کا لفظ ہے اور جو مِنكُم“ کا لفظ ہے اس کو اس آیت کے معنی سمجھنے کے لئے ایک بنیادی اہمیت دی ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ وعدہ یہ دیا گیا ہے کہ جس رنگ میں جس طور پر اُمّتِ موسویہ میں خلافت کا نظام قائم کیا گیا تھا اسی رنگ میں اسی میں اُمتِ مسلمہ میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے گا۔میں پہلے دو تین ایسے حوالے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑھنا چاہتا ہوں جن میں آپ نے یہ بتایا ہے کہ اُمتِ موسویہ کی خلافت اور اُمت محمدیہ کی خلافت میں مماثلت تامہ پائی جاتی ہے۔آپ ان حوالوں کو غور سے سنیں اور پھر اس کے بعد میں بعض باتیں تفصیل سے بیان کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : یعنی خدا تعالیٰ نے اس اُمت کے مومنوں اور نیکو کاروں کے لئے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے پہلوں کو بنا یا تھا یعنی اسی طرز اور اسی طریق کے موافق اور نیز اسی مدت اور زمانہ کے مشابہ اور اُسی صورت جلالی اور جمالی کی مانند جو بنی اسرائیل میں سُنت اللہ گزر چکی ہے اِس اُمت میں بھی خلیفے بنائے جائیں گے اور ان کا سلسلہ خلافت اُس سلسلے سے کم نہیں ہو گا جو بنی اسرائیل کے خلفاء کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور نہ ان کی طرزِ خلافت اس طرز سے مبائن اور مخالف ہوگی جو بنی اسرائیل کے خلیفوں کے لئے مقرر کی گئی تھی۔مماثلت تامہ کا اشارہ جو كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ سے سمجھا جاتا ہے صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ مماثلت مدت ایامِ خلافت اور خلیفوں کی طرزِ اصلاح اور طر ز ظہور سے متعلق ہے۔سوچونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل میں خلیفتہ اللہ ہونے کا منصب حضرت موسی سے شروع ہوا اور ایک مدت دراز تک نوبت به نوبت انبیاء بنی اسرائیل میں رہ کر آخر چودہ (سو ) برس کے پورے ہونے تک حضرت عیسی ابن مریم پر یہ سلسلہ ختم ہو ا۔۔۔۔پس جبکہ قرآن کریم نے صاف صاف بتلا دیا کہ ملفوظات جدید ایڈیشن جلد ۲ صفحه ۶۶۶