سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 84

84 سبیل الرشاد جلد دوم دے گا جس کی مدد سے تم ہدایت کی اور قرب الہی کی راہوں پر چل سکو گے لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ شیطان اور شیطانی اندھیرے۔طاغوتی ظلمات خاموشی کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ۔حقیقی طاقت جو نورانی قدرت کے مقابلہ میں کسی کو حاصل ہو سکتی ہے وہ تو حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسا ممکن نہیں لیکن زبانی دعوے اور زبانی اظہار اور بیان تو بہر حال کیا جا سکتا ہے یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے یہ کوشش کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں۔گالیوں کے ساتھ ، بد زبانی کے ساتھ ، تہمتیں لگا کر ، غلط باتیں بیان کر کے ، غلط استدلال کر کے، عقل کے غلط استعمال سے، سائنس کے غلط استعمال سے فلسفے کی بودی اور ادھوری دلیلوں کے ساتھ ، اس قسم کے حربے تو ضرور استعمال ہوں گے اور بہت سے بد بخت اور بدقسمت ان اندھیرے حربوں کے نتیجہ میں نور سے محروم بھی ہو جائیں گے لیکن ایک وقت میں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ ساری دنیا میں اسلام کے نور کو پھیلائے اور جب اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرے گا تو پھر طاغوتی طاقتیں اسلام کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔اور جو منکر ہیں وَاللهُ مُتِمُّ نُورِ ؟ اس وقت اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی جاری ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کا اتمام کرے گا اس کو کامیابی کے ساتھ ساری دنیا میں پھیلا دے گا اور اسلام کی غرض پوری ہو جائے گی اور وہ غرض یہ ہے کہ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ) جب تک اللہ تعالیٰ کا نور پورے طور پر دنیا میں غالب نہیں آتا اس وقت تک اسلام جن نعمتوں کو بنی نوع انسان کے لئے لے کر آیا ہے اس مقصد میں وہ کامیاب نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں جب وہ آئے گا اللہ تعالیٰ اپنے نور کو متم کرنے والا ہے اور اس طرح پر یہ صداقت ظاہر ہوگی اسلام کی اور قرآن کریم کی کہ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمُ نِعْمَتِي ) دنیا اس کی اکثریت جو ہے وہ اسلام کے نور سے منور ہوگی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات کے نتیجہ میں ان نعمتوں کو حاصل کرے گی جن نعمتوں کو سوائے اسلام کے کسی اور ذریعہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی یہ غرض ہے کہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کیا جائے ، قرآن کریم کے انوار ساری دنیا میں پھیلائے جائیں اور بنی نوع انسان کے دل میں قرآن کریم کی محبت پیدا کی جائے تا کہ وہ اس نور کو حاصل کرے جس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر چل کر اس کی محبت اور اس کے قرب کو حاصل کر سکے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید محبت 3 1 سورة الصف آیت ۹ 2 سورۃ الصف آیت ۹ سوره مائده آیت ۴ سوره مائده آیت ۴