سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 85

85 سبیل الرشاد جلد دوم بنی نوع انسان کے دل میں پیدا ہو اور ایک محسن اعظم کی حیثیت سے دنیا آپ کو پہچاننے لگے اور آپ پر درود بھیجنے کے نتیجہ میں اور آپ کے اسوہ کو اپنانے کی وجہ سے اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں اور ان فضلوں اور ان رحمتوں کے وارث بنیں جو پہلی امتیں اس قسم کی نعمتوں کی وارث نہیں بن سکتیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اس اتمام نعمت اور اس اتمام نور سے پہلے ایک عظیم جنگ اندھیرے اور روشنی کے درمیان ، ظلمت اور نور کے درمیان ہونی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔دو لیکن جو صادق اور اس کی طرف سے ہیں وہ مر کر بھی زندہ ہو جایا کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے فضل کا ہاتھ ان پر ہوتا ہے اور سچائی کی روح ان کے اندر ہوتی ہے اگر وہ آزمائشوں سے کچلے جاویں اور پیسے جائیں اور خاک کے ساتھ ملائے جائیں اور چاروں طرف سے ان پر لعن طعن کی بارشیں ہوں اور ان کے تباہ کرنے کے لئے سارا زمانہ منصوبے کرے تب بھی وہ ہلاک نہیں ہوتے۔کیوں نہیں ہوتے ؟ اس سچے پیوند کی برکت سے جو ان کو محبوب حقیقی کے ساتھ ہوتا ہے۔خدا ان پرسب سے زیادہ مصیبتیں نازل کرتا ہے مگر اس لئے نہیں کہ تباہ ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ تا زیادہ سے زیادہ پھل اور پھول میں ترقی کریں ہر یک جو ہر قابل کے لئے یہی قانون قدرت ہے کہ اوّل صدمات کا تختہ مشق ہوتا ہے۔اسی طرح وہ حقیقی کسان (اللہ تعالیٰ ) کبھی اپنے خاص بندوں کو مٹی میں پھینک دیتا ہے اور لوگ ان کے اوپر چلتے ہیں اور پیروں کے نیچے کچلتے ہیں اور ہر یک طرح سے ان کی ذلت ظاہر ہوتی ہے تب تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانے سبزہ کی شکل پر ہو کر نکلتے ہیں اور ایک عجیب رنگ اور آپ کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں جو ایک دیکھنے والا تعجب کرتا ہے۔یہی قدیم سے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ سنت اللہ ہے کہ وہ ورطۂ عظیم میں ڈالے جاتے ہیں لیکن غرق کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ تا وہ ان موتیوں کے وارث ہوں کہ جو دریائے وحدت کے نیچے ہیں۔اور وہ آگ میں ڈالے جاتے ہیں لیکن اس لئے نہیں کہ جلائے جائیں بلکہ اس لئے کہ تا خدا تعالیٰ کی قدرتیں ظاہر ہوں۔اور ان سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور لعنت کی جاتی ہے اور وہ ہر طرح سے ستائے جاتے ہیں اور دکھ دیئے جاتے اور طرح طرح کی بولیاں ان کی نسبت بولی جاتی ہیں اور بدظختیاں بڑھ