سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 33 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 33

33 سبیل الرشاد جلد دوم متعلق ہم یہ خواہش رکھتے ہیں کہ روحانی نعماء بھی ان کو ورثہ میں ملیں ، ہمارے روحانی ورثہ سے محروم کر دی جائیں گی۔اسی لئے میں جماعت کو بار بار اس طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ قرآن کریم خود بھی سیکھو اور قرآن کریم دوسروں کو بھی سکھاؤ۔اور اپنے بچوں کے سینوں کو قرآن کریم کے نور سے منور کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہو۔اور دوسری چیز اس کے لئے عاجزانہ دعائیں ہیں کہ ہماری تمام تدبیریں اور ہماری تمام کوششیں اور ہماری ہر قسم کی جدوجہد بے سود اور بے فائدہ ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو عاجزانہ دعائیں ہی جذب کرتی اور کھینچتی ہیں۔پس عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ قرآن کریم کے علوم کو اپنی نسلوں کے دلوں میں قائم کرو اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے قرآن کریم کی روشنی کچھ اس طرح ان کے گرد ہالے کی شکل میں قائم کر دو کہ خدا کے فرشتوں کو جس طرح آپ قرآنی انوار میں لیٹے ہوئے نظر آتے ہیں محض خدا کے فضل سے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے فرشتے آپ کی نسلوں کو اور نئے آنے والے آپ کے بھائیوں کو انوار قرآنی میں لیٹے ہوئے پائیں۔اور خدا کے حضور جا کے یہ عرض کریں کہ اے خدا تیرے وہ بندے جو پہلے آئے تھے انہوں نے بھی تیرے فضل سے ایک نورانی مقام حاصل کیا اور تیری محبت کی وجہ سے تجھے خوش کرنے کی خاطر قرآن کریم کو پہنچانے کی وجہ سے انہوں نے قرآن کریم کے انوار کو نئے آنے والوں میں بھی قائم کیا ہے اور ان کی نئی نسلیں بھی ان انوار سے محروم نہیں۔نئے آنے والوں پر بھی وہ رحمتیں اور فضل اور برکتیں نازل کر جو تو پہلوں پر کر رہا ہے۔اب دیر ہوگئی ہے میں مختصراً دو اور خطروں کے متعلق کچھ بتاؤں گا۔اور وہ یہ ہے کہ جب ایسی الہی جماعت دنیا میں قائم ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے انبیاء کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں۔تو بعض لوگ اس جماعت میں ایسے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو دعاؤں کے ذریعہ آمد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم دعاؤں پر زور دے رہے ہیں۔اور جماعت سے کہہ رہے ہیں کہ دعائیں کرو، دعائیں کرو، دعا ئیں کرو ہم کچھ چیز نہیں ہو ، خدا سے مانگو، خدا سے مانگوتو چونکہ شیطان کا کام ہے فتنہ پیدا کرنا۔وہ دعاؤں کی اس فضا میں بھی فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس وسواس کے وسوسہ کے نتیجہ میں ایسے دعا گو پیدا ہو جاتے ہیں۔جو دعاؤں کے ذریعہ آمد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دعا گو پارٹیاں بن جاتی ہیں۔جو جماعتی اتحاد میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔یا درکھنا چاہئے کہ