سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 32

سبیل الرشاد جلد دوم قرآن کریم کی اس آیت میں 32 جس کو میں نے ابھی پڑھا ہے۔جس ابتلاء اور اللہ تعالیٰ کی جس ناراضگی کا بیان ہے اس سے بچنے کا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے انسان اپنے نفس اور اپنے نفس کی تمام خواہشات اور ارادوں پر ایک موت وارد کرے اور عاجزانہ راہوں کو وہ اختیار کرے۔اور استغفار کے ذریعہ اپنے رب سے قوت حاصل کرے۔اور ہمیشہ یہ سوچتا ر ہے اور ہمیشہ اس بات پر قائم رہے کہ مجھے روحانی انوار میں سے جو بھی ملا ہے وہ میری کسی ذاتی خوبی کے نتیجہ میں نہیں ملا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں وہ مجھے ملا ہے اور دینے والے میں یہ طاقت بھی ہے کہ اگر میں اس کو ناراض کر دوں تو وہ ان انوار کو مجھ سے چھین بھی لے۔تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں اور استغفار کے ذریعہ ہمیں اپنی زندگیوں کے دن گزار نے چاہئیں کہ جو ، ان حدود کو پھلانگتا ہے وہ اپنے لئے بڑے خطرات مول لیتا ہے۔پھر ایک اور خوف اور تشویش اس جماعت کو رہتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ ہم تو اپنی زندگیاں مقام فنا اور مقام نیستی پر قائم رہتے ہوئے گزار دیں گے۔محض خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ۔لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں آنے والی نسلیں یا بعد میں شامل ہونے والے، خدا تعالیٰ کی ان عظیم روحانی نعمتوں کا عرفان نہ رکھنے کی وجہ سے ان سے محروم ہو جائیں۔پس اس خیال سے ہمیشہ وہ پریشان رہتے ہیں اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ خدا کے فضل سے انہوں نے جو حاصل کیا ہے۔خدا کرے کہ ان کی نسلیں بھی اس کی وارث ہوں۔جماعتی لحاظ سے اس مقام کو قائم رکھنے کے لئے انتہائی جدوجہد کی ضرورت ہے اور جماعت احمدیہ کو کبھی بھی اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔اس کے لئے علاوہ اور باتوں کے د و اصولی باتیں بہت ضروری ہیں اوّل یہ کہ اپنی نسلوں کو اور بعد میں شامل ہونے والوں کو ہمیشہ اس طرف متوجہ کرتے رہنا چاہئے کہ تمام برکات اور تمام خوبیوں اور تمام رحمتوں اور ہر قسم کی خیر کو صرف قرآن کریم سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔نئے آنے والوں اور نئے پیدا ہونے والوں کے دلوں میں قرآن کریم کے لئے انتہائی محبت کا پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔اگر خدانخواستہ ہم ایسا نہ کر سکے تو پھر کچھ اور قو میں خدا تعالیٰ کھڑی کرے گا۔جو اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کو بلند کرنے والی ہوں گی۔اور ہماری وہ نسلیں جن کے