سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 34
سبیل الرشاد جلد دوم دعاؤں کو حصول زر کا ذریعہ بنانا تو ایک لعنت ہے 34 یہ کوئی خوبی تو نہیں۔دعا کا مزہ تو یہ ہے کہ غیر اللہ سے انسان آزاد ہو گیا۔اور صرف خدا پر توکل کرنے لگا ، خدا تعالیٰ ہی اس کا والی اور وارث ہوا اور اس کا متکفل بنا، اس کا دوست ہوا اور اس کو دینے والا ہوا۔تو دعا کا نام لے کر دعا گو بن کر اور اس دعویٰ کے بعد کہ سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے ہی پیش کرنی ہیں۔بندوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا اور فانیوں کے حضور تہی دامانی کا رونا رونا اس سے بڑی لعنت اور کیا ہوسکتی ہے۔اس لئے ۱۹۳۹ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کو بڑی سختی کے ساتھ اس بات کی طرف متوجہ کیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض خواب بینوں نے اپنی خوابوں اور دعاؤں کو آمد کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔اور وہ آنوں بہانوں سے لوگوں سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں۔جس شخص کو اللہ تعالیٰ بندوں سے مانگنے پر مقرر کر دیتا ہے وہ تو ایک عذاب ہے۔ایسے شخص کی خوا ہیں بھی یقیناً ابتلا کے ماتحت ہوسکتی ہیں۔انعام کے طور پر نہیں۔“ ,, پس جماعت کو ایسے دعا گو سے بچتے رہنا چاہئے اور اس قسم کے فتنہ کو شروع ہی میں دبا دینا چاہئے۔یہ بھی یا درکھیں کہ الہی جماعتوں میں ہی ایسے لوگ پیدا ہوتے اور پیدا ہو سکتے ہیں۔کیونکہ جو لوگ خدا کو بھول گئے ، دعا کو بھول گئے ، ان کو دعا کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ان میں ایسے لوگ نہیں پیدا ہو سکتے۔وہ تو مذاق کریں گے اور کہیں گے دوڑ جاؤ یہاں سے تم یہاں کیا کرنے آئے ہو۔لیکن جو جماعت دعا پر زور دینے والی ، دعاؤں کے نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی ہو، اس کے بعض لوگ کمزوری کے نتیجہ میں ایسی حرکت بھی کر سکتے ہیں۔اور جماعت کے بعض کمز ور لوگ ان سے متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔پس حال، دعا اور سچی خوابیں دنیا کمانے کے لئے نہیں۔بڑا ہی خوش قسمت ہوگا وہ انسان جو اس دنیا سے اس حالت میں رحلت کرے کہ خدا تعالیٰ اسے کہے میں نے تجھے دنیا میں دنیوی اور روحانی ابتلاؤں اور امتحانوں میں ڈالا لیکن تو ہر امتحان میں کامیاب رہا۔اب تو مستحق ہے کہ میری ابدی رضا کو حاصل کرے۔الفضل ۸/ نومبر ۱۹۳۹ء صفحه ۸