سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 490 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 490

20 أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ (المنافقون: 10 ) اموال کو شیطان ذریعہ بنائے گا اور اولا دکو بھی شیطان ذریعہ بنائے گا اس بات کا خدا کا ایک بندہ اپنے رب کو بھول جائے اور اس کے ذکر سے غافل ہو جائے اور رب کے ذکر سے غافل ہوگا وہ انصار اللہ کیسے بنا تو فرمایا کہ ہر وقت چوکس اور بیدار رہوا گر شیطان مال کے رخنہ سے تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالنا چاہے یا اگر شیطان تمہارے بچوں کو تمہارے روحانی اموال لوٹنے کے لئے بطور چور کے استعمال کرنا چاہے تو اس کو اس میں کامیاب نہ ہونے دینا بلکہ کوشش یہ کرنا کہ تمہارا اموال شیطان کو شکست دینے والے اور تمہارے بچے شیطان کے خلاف صف آرا ہونے والے ہوں یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں اور انتخاب بھی صرف ان آیات کا کیا ہے جن میں مومن کو مخاطب کر کے ایمان کا تقاضا بتایا ہے بڑی وضاہت کے ساتھ تو بنیادی چیز اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے یہ ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی معرفت کو حاصل کریں اور جو شریعت ہماری روحانی تقلید کے لئے اس نے نازل کی ہے اور جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اس کی بہترین رحمتوں کے وارث بن سکتے ہیں اس شریعت پر چلنے والے ہوں اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا کے لئے بطور ایک نمونہ کے پیدا کیا اور مبعوث کیا آپ کے اسوہ کے مطابق اور آپ کے اسوہ کی اتباع کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔یعنی ایمان کے سب تقاضوں کو پورا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ ایسا فضل کرے کہ اس کی رحمت کے سارے ہی دروازے ہمارے لئے کھل جائیں اور یہ اس کی توفیق سے ہوسکتا ہے" خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 285-286) تحریک جدید دفتر دوم کی ذمہ داری انصار اللہ کے سپرد کرتا ہوں حضور نے خطبہ جمعہ 25 اکتوبر 1968ء میں فرمایا۔" اس لحاظ سے جب میں نے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہم آج دفتر دوم میں شامل ہونے والوں سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ ان کی اوسط بھی 64 روپے فی کس تک پہنچ جائے کیونکہ ان میں عمر اور ادھیڑ عمر کے بھی ہیں کم تربیت یافتہ بھی ہیں اور بعد میں داخل ہونے والے بھی ہیں لیکن میں نے سوچا اور غور کیا اور مجھے یہ اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ انہیں روپے اوسط بہت کم ہے اور آئندہ سال جو یکم نومبر سے شروع ہورہا ہے جماعت کے انصار کو ( دفتر دوم کی ذمہ داری آج میں انصار پر ڈالتا ہوں ) جماعتی نظام کی مدد کرتے ہوئے (آزادانہ طور پر نہیں ) یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دفتر دوم کے معیار کو بلند کریں اور اس کی اوسط انیس روپے سے بڑھا کر تمیں روپے فی کس پر لے آئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چونسٹھ روپے فی کس اوسط پر لانا