سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 491 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 491

21 ابھی مشکل ہوگا اور یہ ایسا بار ہوگا جسے شاید ہم نبھا نہ سکیں لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو اس معیار کو دفتر اول کے چونسٹھ روپے فی کس کے مقابلہ میں انہیں روپیہ سے بڑھا کر تمیں روپیہ تک پہنچا سکتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق اور مالوں میں برکت دے، اخلاص میں برکت دے تو یہی لوگ تمہیں سے چالیس اوسط نکالیں گے پھر پچاس اوسط نکالیں گے پھر ساٹھ اوسط نکالیں گے پھر ستر اوسط نکالیں گے اور دفتر اول سے بڑھ جائیں گے لیکن آئندہ سال کے لئے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ جماعتیں اس طرف متوجہ ہوں گی اور میں حکم دیتا ہوں کہ انصار اپنی تنظیم کے لحاظ سے جماعتوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں اور کوشش کریں کہ آئندہ سال دفتر دوم کے وعدوں اور ادائیگیوں کا معیارانہیں روپیہ فی کس اوسط سے بڑھ کر تمیں روپیہ فی کس اوسط تک پہنچ جائے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سال رواں کے جو تین لاکھ چون ہزار روپے کے وعدے ہیں وہ پانچ لاکھ چالیس ہزار روپیہ تک پہنچ جائیں گے" خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 353-354) رسالہ انصار اللہ ایک تربیتی رسالہ ہے حضور نے جلسہ سالانہ 1968ء کے دوسرے روز 12 جنوری 1968ء کے خطاب میں فرمایا۔انصار الله تربیتی رسالہ ہے لیکن اس سے وہ لوگ جو ابھی احمدیت میں داخل نہیں ہوئے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی تربیت کس رنگ میں اور کس طور پر کی جا رہی ہے آیا یہ جماعت اپنے بزرگوں کو اور اپنے بچوں کو خدا اور اس کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور لے جارہی ہے یا ان کے عشق میں اور بھی زیادہ شدت اور تیزی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔" خطابات ناصر جلد اول صفحہ 187-188) مسابقت فی الخیر کی روح اُجاگر کرنے کیلئے ذیلی تنظیموں کو قائم کیا گیا ہے حضور نے جلسہ سالانہ 1968 ء کے تیسرے روز 13 جنوری کے خطاب میں فرمایا۔"ہماری جماعت میں روح مسابقت قائم رہنی چاہئے یعنی یہ نہیں کہ بعض جماعتیں کہیں کہ کراچی چندہ دے دے گا۔ہمیں اس کی طرف توجہ کرنے کی کیا ضرورت ہے یا یہ کہ بعض جماعتیں یہ کہیں کہ مرکز سے لوگ آکر اصلاح و ارشاد کا کام کریں گے۔ہمیں اس طرف توجہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ نہیں