سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 489
19 $ 1968 ربوہ کی صفائی ستھرائی کے لئے وقار عمل میں انصار بھی شامل ہوں حضرت خلیفہ ایسیح الثالث رحمہ اللہ نے 5 جنوری 1968ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔ربوہ میں بسنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان دنوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں ربوہ کے ایک چھوٹے سے حصہ میں آج بھی وقار عمل منایا گیا ہے یعنی خدام الاحمدیہ کے انتظام کے ماتحت رضا کارانہ طور پر کچھ کام کیا گیا ہے جس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں ہے میں امید رکھتا ہوں کہ انہوں نے صفائی پر زیادہ زور دیا ہوگا اور ان رخنوں کو بند کرنے پر زیادہ زور دیا ہو گا جس کے نتیجہ میں گندگی پھیلتی ہے اگر خدام الاحمدیہ ہمت کرے اور انصار اور اطفال بھی ان کے ساتھ شامل ہوں تو کم از کم دو دن عصر اور مغرب کے درمیان ربوہ کو صاف ستھرا کرنے پر خرچ کرنے چاہئیں" (خطبات ناصر جلد دوم صفحه 10) اسلام کے استحکام کے لئے ایمان کا تقاضا ہے کہ تم انصار اللہ بنو حضور نے خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1968ء میں فرمایا۔" يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللهِ (الصف: 15) ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں گذرے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ کے دین کو استحکام اور اس کی اشاعت کے سامان پیدا ہوں اگر کوئی شخص مسلمان ہونے کا اسلام لانے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اس اسلام کے استحکام کے جذبات اس کے دل میں نہیں اور اشاعت اسلام کی کوشش اس کے اعمال کا حصہ نہیں تو پھر وہ مومن کیسا وہ ایمان کیسے لایا تو فرمایا کہ تمہارے ایمان کا تقاضا ہے کہ تم انصار اللہ بنو اگر حقیقتا تم اللہ کے دین کے مددگار نہیں ہو گے تو تمہیں رحمت الہی نصیب نہیں ہوگی جیسے دوسری جگہ فرمایا کہ اللہ کی نصرت انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو اس کے دین کی نصرت میں ہر وقت لگے رہتے ہیں فرمایا انصار اللہ بننے میں تمہارے اموال اور تمہاری اولا د روک بنے گی شیطان تمہارے اپنے ہاتھ سے محنت سے بلکہ محنت شاقہ سے کمائے ہوئے اموال کو اور تمہاری محبوب اور پیاری اولاد کو بڑے اچھے بچوں کو تمہارے ایمان کے راستہ میں روک بنانے کی کوشش کرے گا تو تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم شیطان کی اس چال میں نہ آؤ فرمایا۔تايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ