سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 466
466 سبیل الرشاد جلد دوم بدرجہ ہم آگے بڑھیں گے۔پہلا درجہ یہ ہے کہ پنجاب کی ہر تحصیل میں ایک ایک کلب بن جائے کم از کم۔اور اس کے ذمہ دار لجنہ کے علاوہ انصار اور خدام الاحمدیہ ہیں۔کیونکہ میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہو سکے تو چار کنال زمین ورنہ دو کنال سے کم نہ ہو وہ لی جائے ، کرائے پر لی جائے خالی ، پلاٹ گاؤں میں۔یہ شاملات میں اکٹھے ہو کے جو آپ کے ہیں اس میں سے آپ لیں۔بہر حال میں مفت استعمال نہیں کرنا چاہتا۔اگر مثلاً شاملات ہے اور احمدی بہت ہیں وہاں۔وہ اگر کہیں نہیں جی یہ ساروں کی زمین ہے۔آپ اس کو استعمال کریں۔ان کو بھی میں کہوں گا کہ شاملات کی اگر کوئی مد ہے اکٹھی ، تو کم کرا یہ لے لولیکن دو کرائے پر اور لجنہ میں میں نے کہا تھا کہ نو سال کے کرایہ پر لوں گا کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر دس سال قبضہ رہے تو پھر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔میں کوئی پیچیدگی کسی کے لئے پیدا نہیں کرنا چاہتا۔اس سال ہر تحصیل میں لجنہ کے لئے ایک کلب بن جائے۔ایک دوست نے تو ، بڑی ہمت کا کام ہے ، اتنی ہمت زیادہ تھی کہ میری طبیعت پہ بوجھ تھا۔میں نے کہا پہلے تحقیق تو کرو لکھا کہ میرے پاس فلاں گاؤں میں چار کنال زمین ہے اور وہ چار کنال میں دیتا ہوں اس کام کے لئے۔ویسے وہ دوسری جگہ کہیں مزدوری وغیرہ کر رہا ہے۔تو کوئی ایسی بات نہیں ہے دو کنال سے چار کنال تک کی زمین۔اس کو ہم فوری طور پر ، جس طرح وہ پٹھان دیوار میں بناتے ہیں نا اونچی اونچی ، اس قسم کی دیوار بنا دیں گے۔اگر وہ نہیں خرچ کر سکتے تو مرکز ، لجنہ اماءاللہ کا جو مرکز ہے وہ خرچ کرے گا دیوار بنانے پر۔یہ میں کہتا ہوں ان کا احاطہ ہو با پر د۔پہلا میرا مقصد یہ ہے کہ ان کو احساس ہو کہ عورتوں کو با پر درہنا چاہئے۔اور ایک چھوٹا سا کمرہ بالکل چھوٹا سا چاہے ۸× ۸ کا ہو یا ۷ × ۱۰ کا ہو جس میں چیزیں ( پھر آ جائیں گی کھیلنے والی ) وہاں ان کو محفوظ سٹور کر لیا جائے۔جس میں ہم ان کو کہیں گے کہ بیٹھنے کی جگہ ، تخت پوش عام لکڑی لے کے جس طرح ہوتا ہے ( کا وچ (COUCH) وغیرہ تو فضول بن گئے ہیں گاؤں والوں کے لئے ، ہم تو ابھی تک استعمال کر رہے ہیں لکڑی کے تخت ) وہ ہوں ، بیٹھیں وہاں۔نیکی کی باتیں کریں۔میں نے لجنہ کو کہا تھا۔ایک شرط ہے میری کہ وہاں عورتیں جمع ہو کے آپس میں لڑیں گی بالکل نہیں۔تو یہ جواب بنے گی مجلس تو ازن ، ان کا کام ہے کہ یہ پورا کریں۔میں عمل چاہتا ہوں۔اس سال ہر تحصیل میں لجنہ کا ایک کلب بن جائے۔اس کے علاوہ (ان کو تو کھلی زمین مل جائے۔دیوار کی ضرورت نہیں ) خدام الاحمد یہ ہرایسی مجلس میں جہاں بہت تھوڑے خدام نہیں کافی ہیں ، وہاں وہ اکٹھے ہوں۔وہاں میروڈ بہ کھیلیں گلی ڈنڈا کھیلیں۔وہاں بڑی اچھی ایک ورزش ہے بہت ہی اچھی جو انڈونیشین سٹوڈنٹس ( جب میں پڑھا کرتا تھا ) مدرسہ