سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 330
330 سبیل الرشاد جلد دوم طریق تھا اور لکھنے کا جو سٹائل تھا وہ بالکل بدل گیا۔آپ نے بڑا سہل انداز اختیار فرمایا جسے ہر آدمی سمجھ سکتا ہے اس لئے میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ پہلے وہ کتاب خرید و جسے آپ نے سب سے آخر میں لکھا ہے اور پھر پیچھے کو چلتے آؤ اور خرید کر بار بار پڑھو پھر دیکھو ان کے اندر سے آپ کو کیا کیا ملتا ہے۔پھر کچھ اور پڑھنے کو دل ہی نہیں کرے گا۔سوائے قرآن کریم کے۔کیونکہ وہ تو بنیادی چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتا ہیں تو اس کی شرح ہیں۔اسی طرح احادیث نبویہ ہیں ان کی اپنی شان ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بہت ہی عجیب شان رکھتے ہیں۔لیکن جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھتے ہیں تو تیرہ سو سال کے زمانہ میں جو علماء گزرے ہیں اُن کی کتابیں پڑھنے میں کوئی مزہ نہیں آتا۔گوضرور تا ہم پڑھتے ہیں کیونکہ بہت سی چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں۔لیکن جو چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں ہے اور جو اس کی شان ہے وہ ہمیں اور کہیں نظر نہیں آتی۔اور ہونا بھی یہی چاہئے تھا۔کیونکہ پہلوں نے بھی یہی کیا اور ہمارے شیعہ حضرات کا لٹریچر جو ایران میں بڑی کثرت سے چھپ رہا ہے اس میں بھی یہی ہے اور دوسرے فرقوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ امت محمدیہ میں مہدی معہود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عکس کامل ہیں۔اور مہدی کے متعلق پہلوں نے خبر دی تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے والے اور آپ کا کامل عکس یعنی پوری شبیہ رکھنے والے ہیں۔باقیوں میں اس قسم کا کمال نہیں۔اس کو ہم محاورہ میں فنافی الرسول کہتے ہیں۔آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں فنا ہو گئے۔آپ کا اپنا کچھ نہیں تھا بلکہ مہدی علیہ السلام کا سب کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا تھا۔اور اپنے لئے کچھ نہیں چھوڑا تھا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو صرف سارے کا سارا مال و دولت لے آئے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کر دیا تھا اور وہ بھی وہ دولت تھی جو اُس وقت آپ کے پاس تھی۔اور خدا نے جو بعد میں دیا اس سے آپ فائدہ بھی اٹھاتے رہے۔لیکن مہدی علیہ السلام نے تو ساری زندگی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کر دی اور آپ کے دین کی خدمت میں دن رات ایک کر دیا۔اور آپ کے دل میں ایک ہی جوش اور ایک ہی تڑپ تھی کہ کسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بنی نوع انسان کے دل میں قائم ہو جائے اور آپ کا جھنڈا ساری دنیا میں لہرانے لگے۔اگلی صدی کی ذمہ داریاں میں نے یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ اب احمدیت کی تاریخ میں اگلی صدی بس آنے ہی والی