سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 329
سبیل الرشاد جلد دوم 329 كتب مسیح موعود سے عربی کا بلند معیار غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں عربی کی بعض ایسی عبارتیں ہیں جن کے متعلق میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا میں بڑے چوٹی کے جو علماء ہیں اُن کے لئے بھی اُن کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۱۹۷۰ ء میں افریقہ کے دورے میں ایک ملک کے سفیر مجھ سے علیحدہ ملے۔وہ بڑی نیک طبیعت کے انسان تھے۔ان کے دل میں اسلام سے پیار تھا۔کیونکہ وہ متعصب نہیں تھے اس لئے کہنے لگے میں نے جماعت احمدیہ پر یہ یہ اعتراض سُنے ہیں میں سمجھنے کی خاطر ان کے جواب سُننا چاہتا ہوں۔میں نے کہا میں آپ کو ان کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام سے دیتا ہوں۔میری عادت ہے جب میں سفر کرتا ہوں تو تینوں ڈری مینیں یعنی فارسی، عربی اور اردو کی در تشین اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری کتابیں تو ساتھ رکھی نہیں جاسکتیں ان میں خلاصہ بیان کر دیا گیا ہے۔میں نے اُسے عربی کی درمشین سے کچھ اشعار پڑھ کر سنانے شروع کئے تو کئی اشعار سناتے وقت اُن کے چہرے پر ایسے آثار آتے تھے کہ گویا وہ عربی کو نہیں سمجھ رہے۔ایک دفعہ یہاں ہمارے چھ سات چوٹی کے علماء مجھ سے کہنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عربی کا ایک محاورہ باندھ گئے ہیں اور ہمارے علم کے مطابق تو عربی زبان میں یہ محاورہ استعمال ہی نہیں ہوتا۔ہمیں اس کا ترجمہ کرنے میں مشکل پیش آ گئی ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ ہم اس کا ترجمہ کس طرح کریں۔میں نے اُن سے کہا کہ یہ تو میں مان نہیں سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جنہوں نے خدا تعالیٰ سے عربی سیکھی ہے وہ کوئی ایسا محاورہ بھی لکھ جائیں جو عربی زبان میں مستعمل نہ ہو۔اس لئے تم دوبارہ تلاش کر و۔انہوں نے ۱۰۸ دن تک تلاش کی اور میرے پاس آ کر کہنے لگے کہ نہیں ملتا۔میں نے کہا پھر تلاش کرو کیونکہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ نہ ملے۔چنانچہ چودھویں پندرھویں دن ایک عالم عربی کی ایک کتاب لے کر آ گئے اور کہنے لگے دیکھیں یہاں یہ محاورہ لکھا ہوا ہے اور وہ محاورہ وہی تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مضمون میں استعمال کیا تھا۔سے پہلے سب سے آخری کتاب خرید کر پڑھو غرض ایک وقت تک آپ کے مخاطب وہ علماء تھے جو اپنے علم وفضل کا بڑا ادعا ر کھتے تھے۔آپ نے اُن کو مخاطب کر کے بڑی دقیق کتا ہیں لکھیں لیکن پھر ایک وقت آیا جب خدا تعالیٰ نے آپ کو مامور کیا اور فرمایا کہ اٹھ اور میرے دین کی خدمت کر تو اس وقت آپ کے مخاطب عوام بن گئے۔تو آپ کا جو