سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 254
سبیل الرشاد جلد دوم 254 غرض میری یہ خواہش تو بڑی چھوٹی اور ابتدائی ہے اور وہ یہی ہے کہ ہر گاؤں میں جماعت کا چھپا ہوا قرآن کریم کم از کم ایک نسخہ ضرور پہنچ جانا چاہئے۔آپ اپنے ارد گر د علاقے میں چکر لگا ئیں، پیدل چلیں ہم گھر میں کرسیوں کے ساتھ بندھے رہنے والے بھی بعض دفعہ آٹھ آٹھ دس دس میل پیدل چلے جاتے ہیں۔قرآن کریم کی اشاعت کے لئے تو پیدل چلنا کوئی ایسی بات نہیں۔یہاں اس وقت اکثر دوست زمیندار ہوں گے۔وہ اپنے اردگرد کے گاؤں کو لیں۔وسعتِ خدمت کے لئے ساتھ کے گاؤں کو لیں اور وہاں یہ کام بھی کریں۔ایک ضلع نے کہا تھا کہ ہماری جماعتیں کم ہیں میں نے کہا تھا میں تمہیں تین مبلغ دیتا ہوں گاؤں والوں کو کہو۔اردگرد کے دیہات میں ان کی رشتہ داریاں ہیں۔وہاں مبلغ چلے جائیں۔اور تبلیغ ان کو اس طرح کریں کہ دیکھو اسلام پر اللہ تعالیٰ کتنا فضل کر رہا ہے افریقہ میں امریکہ میں یورپ میں جزائر میں بجی آئی لینڈ اور آسٹریلیا ، جاوا ، سماٹرا وغیرہ میں لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔پہلے یہ باتیں ان کو بتا ئیں۔پھر جب اُن کو دلچسپی پیدا ہو جائے گی تو پھر وہ خود بخود اور باتیں بھی سنیں گے۔پھر ان کو کہیں کہ ہم اس لئے وہاں کامیاب ہیں کہ جو بات قرآنی تعلیم اور انسانی عقل کے خلاف ہے ہمیں خدا نے یہ سمجھ عطا فرمائی کہ ان باتوں کو ر ڈ کر دیں جو اسلام میں بلا وجہ شامل ہوگئی ہیں اور ایسی باتیں کریں جو اُن کی عقل میں آجائیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں یہ کیا ہوا۔ان کی عقل میں نہیں آتا کہ ایک تین اور تین ایک کا فلسفہ کیا ہے۔ہم ان کو کہتے ہیں کہ یہ ہے ہی فضول مسئلہ۔مگر وہ جن کے متعلق یہ مسئلہ بنایا گیا ہے وہ تو کبھی کے کشمیر میں طبعی وفات پاچکے ہیں۔اس طرح گویا آپ نے وفات مسیح کی ایک دلیل دے دی۔پس اگر آپ کسی شخص کو مخاطب کر کے یہ کہیں کہ تیرا عقیدہ غلط ہے۔اور اگر تو اس عقیدہ پر قائم رہا تو سیدھا جہنم میں جائے گا۔تو وہ پڑ جائے گا۔اور آپ کی کوئی بات نہیں سنے گا۔اور اگر آپ یہ کہیں کہ ہم افریقہ میں غلط عقائد کی درستی کے لئے یہ بات کرتے ہیں۔گویا غلط قسم کے عقائد جو اس کے دل میں ہیں اس کی طرف منسوب نہ کریں اس کے غیر کی طرف منسوب کریں تو اس کو کوئی غصہ نہیں چڑھے گا۔آپ کہیں گے دیکھو! افریقہ کے حبشی کہتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فیضان الہی مل ہی نہیں سکتا۔لیکن ہم نے ان کو سمجھایا کہ دیکھو فیضان الہی مل تو سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قوتیں اتنی ہی قوی اور شدید ہیں کہ جتنی پہلے کسی زمانہ میں رہی ہیں۔اور وہ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے وہ کہتے ہیں اچھا چالیس سال سے ہمارے ہاں بچہ نہیں ہوا دعا کر کے دکھا ئیں کہ واقعی خدا تعالیٰ اسلام کی برکت سے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے دعاؤں کو سنتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ، ہماری دعاؤں کو سن کر اس کے ہاں بچہ پیدا کر دیتا ہے۔تو گویا دعا قبول ہو گئی۔بعض دفعہ پہلے بتا دیتا ہے۔بعض دفعہ سکھوں اور عیسائیوں کے خط