سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 255

255 سبیل الرشاد جلد دوم آ جاتے ہیں کہ مثلاً ہم ہیں تو عیسائی لیکن ہمیں پتہ لگا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سنتا ہے۔اس واسطے آپ ہمارے لئے دعا کریں مشرقی افریقہ کے غالباً نیروبی کے ایک سکھ کو ایک ایسی تکلیف تھی جس کا اس کے پاس کوئی علاج نہیں تھا۔آخر لا چار ہو کر اس نے مجھے لکھا کہ آپ کے احمدی کہتے ہیں کہ خدا آپ کی دعائیں سنتا ہے۔آپ میرے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔میں تو بالکل ذرہ ناچیز ہوں۔خیر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار کرتا ہے۔چنانچہ وہ شخص جسے دنیا نے کہا تھا کہ تیرا کام نہیں ہوسکتا۔اس کا کام ہو گیا۔اس کے دل میں ایک پیار پیدا ہوا۔بعد میں عام دعاؤں کے متعلق لکھتا رہا۔اس کے یہاں سے جواب جاتے تھے۔ایک دن اس کو خیال پیدا ہوا۔کہ میں نے اپنا کام کروالیا ہے۔خواہ مخواہ ان کے پیسے خرچ ہوتے ہیں میں ان کے پیسے کیوں ضائع کرواؤں اس نے مجھے خط لکھا میں تو آپ کو خط لکھتا رہوں گا۔کیونکہ میرے دل میں آپ نے ایک پیار پیدا کیا ہے۔ایک ایسی چیز دکھا کر جو کہیں سے نہیں ملی تھی وہ آپ کے ہاں سے مل گئی آپ کو میرے خطوں کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔خواہ مخواہ چٹھیوں پر پیسے کیوں ضائع ہوں۔یہ اس کا نظریہ تھا لیکن میرا نظریہ یہ تھا کہ اس کے خط کا جواب ضرور جائے گا۔یہاں بھی اس قسم کے کچھ اور نظریے ہیں۔مجھے ایک رپورٹ آ گئی کہ ہم نے دفتر میں ڈیڑھ سو خط دیکھے جن پر ٹکٹ لگے ہوئے تھے گویا خواہ مخواہ پیسے ضائع ہورہے ہیں إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔تمہیں تو یہ چاہئے تھا کہ کلرک کو غصے میں آ کر چپیڑ لگا دیتے تو میں تمہیں معاف کر دیتا مگر اس ذہنیت کو میرے لئے معاف کرنا ممکن نہیں آپ خط نہیں لکھیں گے تو ہم بڑے مستعد ہو جائیں گے اور خوب جوش و خروش کے ساتھ کام کریں گے اس لئے یاد دہانیوں کی کیا ضرورت ہے۔اور ایسا کر کے دکھا دیں تو ہم مان لیں گے لیکن اگر خط نہ وصول کرنے کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ ستی پیدا ہو گی تو خط لکھنے کے نتیجہ میں فرض کریں زیادہ جوش نہیں آیا صرف پانچ فیصد آ گیا تو اگر ایسی جگہ آیا جہاں تم نے اپنے گاؤں میں وہ جوش نہیں دیکھا تھا۔لیکن اگر یاد دہانی کے خط نہیں جائیں گے تو مشکل ہے جب تک اپنی اصلاح نہ کریں غرض ایسے آدمی کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ ایک ہزار سے زیادہ جماعتیں ہیں تم ڈیڑھ سو خط کیوں بھیج رہے ہو۔تمہارے پاس زیادہ ٹکٹیں اور خط ہونے چاہئے تھے کیونکہ قرآن کریم بار بار کہتا ہے ذَكَرُ ذَكِّرُ ذکر کہ یاد دہانیاں کرواتے رہا کرو۔اور جب مرکز یاد دہانی کراتا ہے تو کہتے ہیں ٹکٹوں پر پیسے کیوں خرچ کر رہے ہو۔تم کہتے ہو کہ ان کا کوئی اثر نہیں تو کیا خط نہ لکھنے کا اثر ہو جائے گا۔اگر تو یہ کہو کہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔پھر تو تمہاری حالت اس پارہ کی مانند ہوگی جسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں سبق سکھانے کے لئے بنایا ہے یعنی جب درجہ حرارت گر جاتا ہے تو پارہ نقطہ انجماد سے نیچے آنے