سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 253
سبیل الرشاد جلد دوم 253 ایسی راہ نکالیں کوئی نیکی کا ایسا کام کریں جس پر آپ عورتوں سے کہیں کہ تم گھر بیٹھو ہم تمہیں شامل نہیں کریں گے۔عیسائیوں نے اسلام پر بڑا اعتراض کیا ہے کہ اسلام میں عورت کا کوئی درجہ نہیں ہے۔انہوں نے اپنی حماقت کا مظاہرہ کیا ہے۔اسلام نے تو کہا ہے کہ عورت ہو یا مرد جو بھی نیکی کرے گا میں اسے اپنا پیار دوں گا۔بہر حال میں نے انہیں (عورتوں کو ) کہا تھا کہ دائرہ خدمت میں وسعت پیدا کرو۔اُن کے لئے مشکل ہے۔میں نے ان سے کہا تھا کہ انہیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمہیں بعض دشواریاں ہے۔تمہارے راستے میں بعض روکیں ہیں تم ایسا انتظام کرو کہ دوسری عورتیں تمہارے گھر میں آ جایا کریں۔مثلاً تمہاری غریب بہنیں ہیں تم ان کی خدمت کیا کرو۔لیکن آپ کے راستے میں یہ دشواری نہیں ہے۔۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ دائرہ خدمت کو بڑا وسیع کریں۔روحانی طور پر بنیا دی خدمت یہی ہے کہ قرآن کریم کی برکت اگر گھر گھر پہنچانے کے قابل نہیں تو قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں ضرور پہنچا دینی چاہئے۔آپ اس کام کے قابل ہیں اگر آپ ہمت کریں تو قابل ہیں۔پیسے کے لحاظ سے تو قابل ہیں۔لیکن قرآن کریم کو گاؤں گاؤں پہنچانے کا جو کام ہے وہ تو آپ نے کرنا ہے مگر اس طرح نہیں کہ یہاں سے گئے۔پانچ سات دن بہت جوش دکھایا اور پھر خاموش ہو گئے۔یہ بڑے افسوس اور دکھ کی بات ہے۔مجھے اس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔جو کام کرنا ہے اس کو کرتے رہیں جب تک کہ وہ اپنے کمال کو نہ پہنچ جائے اور پورا نہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی مثال دی ہے کہ کونین سے ملیر یا کا علاج کیا جاتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ کونین پوری ڈوز یعنی خوراک (Dose) میں کھائی جائے اگر کوئی شخص ایک گرین کو نین کا ہزارواں حصہ کھائے اور کہے کہ میرا ملیریا بخار نہیں اترتا۔یوں ہی لوگ کہتے ہیں کہ ملیریا کا علاج کونین سے کیا جاتا ہے۔میرا تو بخار نہیں اترتا۔تو یہ غلط ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جس طرح جسمانی بیماریوں میں پوری خوراک کے ساتھ دواؤں کا استعمال کرنا ضروری ہے۔اسی طرح پوری خوراک کے ساتھ ساتھ روحانی غذاؤں کا استعمال بھی ضروری ہے۔مثلاً ایک شخص چار روٹیوں سے سیر ہوتا ہے۔اب وہ کہے کہ میں ایک لقمہ کھا تا ہوں۔لوگ یو نبی کہتے ہیں کہ روٹی سے پیٹ بھر جاتا ہے میں نے تو روٹی کھائی میرا تو پیٹ نہیں بھرا۔جب تک تم چار روٹیاں نہیں کھاؤ گے۔اس وقت تک تمہارا پیٹ نہیں بھرے گا۔پس جب تک انسان اپنے کام کی انتہاء تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک اس کام کو چھوڑ نا نہیں چاہئے۔اور اس کے بغیر تو صحیح کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔