سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 100

سبیل الرشاد جلد دوم پر ان آیات میں خلافتِ روحانی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک خوف کی حالت میں کہ جب محبت الہیہ دلوں سے اُٹھ جائے اور مذاہب فاسدہ ہر طرف پھیل جائیں اور لوگ رو بہ دُنیا ہو جا ئیں اور دین کے گم ہونے کا اندیشہ ہوتو ہمیشہ ایسے وقتوں میں خدا رُوحانی خلیفوں کو پیدا کرتا رہے گا کہ جن کے ہاتھ پر رُوحانی طور پر نصرت اور فتح دین کی ظاہر ہو اور حق کی عزت اور باطل کی ذلّت ہو، تا ہمیشہ دین اپنی اصلی تازگی پر عود کرتا رہے اور ایماندار ضلالت کے پھیل جانے اور دین کے مفقود ہو جانے کے اندیشہ سے امن کی حالت میں آجائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 100 كَمَا کی تفسیر لکھتے ہوئے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت میں جس قسم کے ، جس رنگ کے ، جس زمانہ تک، جن وقتوں کی تحدید کے ساتھ خلفاء پیدا ہوتے رہے بالکل اسی طرح امت محمد یہ میں پیدا ہوں گے۔امت موسویہ کے خلفاء کی تاریخ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو وہاں ہمیں کئی قسم کے خلفاء نظر آتے ہیں۔ایک وہ سلسلۂ خلافت جو چودہ خلفاء پر مشتمل ہے جن کے پہلے اور اپنی اُمت میں بڑے خلیفہ اور مجدد حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے اور جن کے چودھویں اور سب سے آخری خلیفہ اور مسجد دحضرت مسیح علیہ السلام تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی اس قسم کی خلافت اور تجدید دین جاری رہی ہے یعنی اس نقطہ نگاہ سے ایک ایسا سلسلہ اُمتِ محمدیہ میں پیدا ہوا جس سلسلہ تجدید دین کے مجد داعظم جنہیں خلافتِ عظمی حاصل تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپ کے بعد پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر تھے اور حضرت ابوبکر کو ایک کامل مشابہت حضرت یوشع بن نون سے تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد پہلے خلیفہ ان تیرہ خلفاء کے سلسلہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس مشابہت پر بحث کی ہے۔حضرت ابو بکر کی حضرت یوشع بن نون کے ساتھ تھی اور پھر آپ نے فرمایا کہ آخر میں میں ہوں اور میری مشابہت کا ملہ حضرت مسیح ناصری سے ہے۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب ایک سلسلہ لمبے عرصہ پر ممتد ہو ( چودہ سو سال پر ) تو ہر ایک کڑی کو لے کر تفصیلی بحث کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں کیونکہ تاریخ نے ان واقعات کی تفصیل کو محفوظ نہیں رکھا۔لیکن خُدا کی حکمتِ کاملہ نے پہلی کڑی کی تاریخی براہین احمدیہ طبع اول روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۵۹ - ۲۶۰ حاشیه