سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 99 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 99

سبیل الرشاد جلد دوم 99 66 امَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُ وَنَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ - پھر آپ فرماتے ہیں : ہم کب کہتے ہیں کہ مجد داور محدث دُنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے تب اُس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجد داور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔مجد دوں اور روحانی خلیفوں کی اس اُمت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی مرسل تھے اور ان کی توریت بنی اسرائیل کی تعلیم کے لئے کامل تھی۔لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے۔۔66 صدہا ایسے نبی ، بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی۔“ پھر فرماتے ہیں : چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائیبل شہادت دے رہی ہے۔پھر اسی مماثلت تامہ کے ذکر میں آپ فرماتے ہیں: خدا نے تم میں سے بعض نیکو کارایمان داروں کے لئے یہ وعدہ ٹھہرا رکھا ہے کہ وہ انہیں زمین پر اپنے رسول مقبول کے خلیفے کرے گا انہیں کی مانند جو پہلے کرتا رہا ہے۔یہ تو ظاہری طور پر بشارت ہے مگر جیسا کہ آیات قرآنیہ میں عادت الہیہ جاری ہے اس کے نیچے ایک باطنی معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ باطنی طور شہادت القرآن صفحه ۲۸ / روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۸ شہادت القرآن طبع اوّل روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۹ تا ۳۴۱