سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 86
۸۶ ہیں۔یہ نہیں کہتا کہ ان میں انحطاط واقعہ ہو جاتا ہے۔انحطاط نہیں بلکہ قوائے دماغیہ ایک پردہ کے اندر رہتے ہیں۔یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جو چھپیں سال سے چالیس سال تک کی عمر کا ہے۔لیکن پھر اس کے بعد ایک زمانہ ایسا آتا ہے جب جسم میں نشو و ارتقاء کی طاقت تو نہیں رہتی مگر اسے جو کمال حاصل ہو چکا ہوتا ہے وہ قائم رہتا ہے۔جیسے کسی چیز میں جب ابال شروع ہو تو جب اس کا ابلنا بند ہو جائے ،مگر ابھی وہ اہال بیٹھے نہیں، جو کیفیت اس وقت ہوتی ہے وہی کیفیت چالیس سال سے اوپر عمر والوں کی ہوتی ہے کہ ان کا ابال تو بند ہو جاتا ہے مگر ان کی بلندی میں کمی نہیں آتی۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ عام طور پر نبیوں کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کیا کرتا ہے۔گویا یہ زمانہ بلغ اشدہ کا زمانہ ہوتا ہے۔طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں مگر جو ابال کی صورت ہوتی ہے وہ مٹادی جاتی ہے۔پس جب میں نے انصار اللہ میں شمولیت کے لئے چالیس سال سے اوپر کی شرط رکھی تو اس کے معنے یہ تھے کہ کام کرنے کا بہترین زمانہ انہیں حاصل تھا۔بشرطیکہ اس عمر والوں سے فائدہ اٹھایا جاتا۔مگر مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے اس حکمت کو نہ سمجھا اور کام انہیں لوگوں کے سپر د رکھا جو زیادہ عمر کے ہیں۔حالانکہ اگر سارے کے سارے کام انہیں لوگوں کے سپرد کر دئے جائیں جو ساٹھ سال سے اوپر اور ستر سال کے قریب ہوں، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ان لوگوں کے پاس دماغ تو ہوگا مگر چونکہ کام کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہیں ہوں گے، اس لئے وہ کام خراب ہو جائے گا۔مفید نتائج کا حامل نہیں ہوگا۔پس انہیں چاہئے تھا کہ وہ ہر محکمہ کے ہر سیکرٹری کے ساتھ نائب سیکرٹری ان لوگوں کو مقرر کرتے جو تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ہمت رکھتے اور ان کے پاس صرف دماغ ہی نہ ہوتے بلکہ کام کر نیوالے ہاتھ اور پاؤں بھی ان کے پاس ہوتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب تک انسان کے اندر دماغی انحطاط پیدا نہیں ہو جاتا اس کا دماغ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔خواہ اس کی عمر کس قدر زیادہ ہو۔اس لئے زیادہ عمر کے لوگ تجربہ کار، صائب رائے رکھنے والے اور نفع ونقصان کو عمدگی کے ساتھ سمجھنے والے ہوتے ہیں اور ضروری ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کے تجربہ، اصابت رائے اور خوبی دماغ سے فائدہ اٹھایا جائے۔مگر بہر حال وہ نگران یا سیکرٹری ہی مقرر ہو سکتے ہیں۔سوائے ایسی عمر کے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارذَلِ الْعُمر قرار دیا ہے اور جن میں جسمانی قومی کے انحطاط کے ساتھ دماغی انحطاط بھی شروع ہو جاتا ہے۔ایسی عمر میں انسان کسی کام کا بھی