سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 87
AL نہیں رہتا۔مگر جب تک کسی کا دماغی انحطاط شروع نہ ہو جائے اس وقت تک ایسے آدمی کی رائے صائب ہوتی ہے۔اس کے تجربہ سے دوسرے لوگ بہت کچھ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور اس کی راہنمائی لوگوں کے لئے مفید ہوسکتی ہے لیکن بہر صورت ایسے لوگ نگران ہی مقرر ہو سکتے ہیں۔نائب سیکرٹری وہی لوگ مقرر ہونے چاہئیں جو دوڑ سکتے ہوں، بھاگ سکتے ہوں، جلدی جلدی کام کر سکتے ہوں، لوگوں کو یاددہانیاں کرا سکتے ہوں ، ان کی نگرانی کا کام کر سکتے ہوں۔اگر انصار اللہ اس طرح کام کرتے تو ان کا کام یقیناً اب تک نمایاں ہو چکا ہوتا مگر انہوں نے بجائے یہ طریق اختیار کرنے کے، جن لوگوں کا نام میں نے اپنے ایک پہلے خطبہ (۲۶۔جولائی سن ۴۰ء) میں لیا تھا۔انہی کے سپر د تمام کام کر دیا۔حالانکہ میں نے وہ نام اس لئے لئے تھے کہ میرے نزدیک وہ اچھا دماغ رکھنے والے تھے۔ان کی رائے صائب اور سلجھی ہوئی تھی اور وہ مفید مشورہ دینے کی اہلیت رکھتے تھے۔اس لئے نام نہیں لئے تھے کہ ان میں کام کرنے کی ہمت اور قوت بھی نوجوانوں والی موجود ہے اور وہ دوڑ بھاگ بھی سکتے ہیں۔ان کا کام صرف نگرانی کرنا تھا اور ضروری تھا کہ ان کے ماتحت ایسے نوجوان لگائے جاتے جو دوڑنے بھاگنے کا کام کر سکتے۔اب بھی اگر وہ اچھا کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سابق سیکرٹریوں کے ساتھ بعض نوجوان مقرر کر دینے چاہئیں، چاہے نائب سیکرٹری بنا کر یا جائنٹ سیکرٹری بنا کر ، تا کہ انصار اللہ میں بیداری پیدا ہو اور ان پر غفلت اور جمود کی جو حالت طاری ہو چکی ہے وہ دور ہو جائے۔ورنہ یا درکھیں عمر کا تقاضا ایک قدرتی چیز ہے۔بیشک بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر عمر میں خدا تعالیٰ کی حفاظت کے نیچے ہوتے ہیں۔مگر عام طور پر دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے، ہاتھ پاؤں رہ جاتے ہیں۔البتہ دماغ موجود ہوتا ہے جو ہر وقت سوچنے کا کام کرتا رہتا ہے۔گویا اس عمر والوں کی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جیسے بھاگنے والے کی حالت ہوتی ہے۔جب کوئی شخص مکان میں سے نکل کر بھاگنا چاہے تو پہلے وہ ایک پیر نکالتا ہے، پھر دوسرا پیر نکالتا ہے، پھر دھڑ نکالتا ہے اور بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح روح جب طبعی موت کے ذریعہ انسانی جسم میں سے بھاگتی ہے تو یہی طریق اختیار کرتی ہے۔پہلے وہ انسان کے ہاتھوں اور پاؤں سے نکلتی ہے۔انسان زندہ ہوتا ہے مگر اچھی طرح نہ ہاتھ ہلا سکتا ہے، نہ پاؤں ہلا سکتا ہے اور اس کی آخری حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دل اور دماغ میں سے بھی نکل جاتی ہے اور انسان اگلے جہان میں چلا جاتا ہے۔پس یہ بھاگنے کا سا وقت ہوتا ہے اور انسان دنیا کو چھوڑ رہا ہوتا ہے اور جو شخص دنیا کو چھوڑ رہا ہوا سے