سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 38

٣٨ ہیں ان کے متعلق ہم یہ کہاں فرض کر لیں کہ ہماری جماعت میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کا ایمان مخالفوں کا ایک اشتہا ر یا صرف ایک ٹریکٹ یا ایک کتاب پڑھنے سے ہی ضائع ہو جائے گا اور وہ ایسا متاثر ہوگا کہ احمدیت کو چھوڑ دے گا اور اگر کوئی متاثر ہوگا تو اسی وجہ سے کہ ہم نے اسے احمدیت کی حقانیت کے دلائل پوری طرح نہیں سمجھائے ہوں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے غافل ہو جاتی ہے تو وہ اپنی اس ذمہ داری کو جو قوم کے تمام افراد کو صحیح تعلیم دینے سے تعلق رکھتی ہے ادا کرنے میں سست ہو جاتی ہے۔اس قوم کے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ جب ہم نے دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے اپنی تمام قوم کو منع کر دیا ہے تو وہ غیر کے اثرات سے متاثر ہی کب ہوگی گویا اوہ اصطلاح کا ایک شارٹ کٹ تجویز کرتے ہیں۔حالانکہ اس سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن راستہ اور کوئی نہیں۔جب ہم اپنی جماعت کے افراد کو یہ آزادی دیں گے کہ وہ دوسروں کے لٹریچر کو بھی پڑھیں تو لازما ہمیں یہ فکر ر ہے گا کہ ہم دوسروں کے پیدا کردہ شبہات کا بھی ازالہ کریں اور اس کے تردیدی دلائل ان کے ذہن نشین کریں۔لیکن اگر ہم انہیں دوسروں کا لٹریچر پڑھنے سے ہی منع کر دیں گے تو لازماً ہم تعلیمی پہلو میں سُست ہو جائیں گے اور ہمیں یہ احساس نہیں رہے گا کہ دوسروں کے دلائل کا جواب بھی اپنے افراد کو سکھانا چاہئے۔چنانچہ فرض کرو اگر ہم کہہ دیں کہ جماعت کا کوئی شخص دوسروں کا لٹریچر نہ پڑھے تو چونکہ حیات مسیح کے دلائل جو وہ پیش کرتے ہیں انہیں کی کتب میں سے مل سکتے ہیں اس لئے یہ دلائل ہماری جماعت کی نظروں سے مخفی رہیں گے اور ان کا کوئی جواب ہمارے افراد کو نہیں آئے گا۔اسی طرح ہم وفات مسیح کے دلائل بھی زیادہ توجہ سے اپنے افراد کو نہیں سکھا سکیں گے۔کیونکہ وفات مسیح کے دلائل کی ضرورت بھی حیات مسیح کے دعوی کے مقابلہ میں ہی پیش آیا کرتی ہے۔لیکن اگر دوسرا شخص حیات مسیح کے دلائل پیش کرے اور وہ دلائل ہماری جماعت کے افراد کے سامنے آتے رہیں تو ہم اس بات پر مجبور ہونگے کہ انہیں وفات مسیح کے دلائل بھی سمجھا ئیں۔اسی طرح اگر ہم کہ دیں کہ مسئلہ نبوت کے بارہ میں کسی مخالف کی کوئی کتاب نہ پڑھی جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنی جماعت کو اپنے عقیدہ کے دلائل بتانے میں بھی ہم سست ہو جائیں گے اور جولوگ وفات مسیح یا مسئلہ ختم نبوت کو ہم میں ماننے والے ہوں گے وہ بھی علی وجہ البصیرت ان مسائل پر قائم نہیں ہوں گے بلکہ تقلیدی رنگ میں ہوں گے۔حالانکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ ہر مسلمان دلائل اور شواہد کی بناء پر اپنے تمام اعتقادات رکھے۔چنانچہ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی دعوی بیان ہوا ہے کہ میں اور میرے متبع دلائل سے اسلام کو مانتے ہیں مگر تم اپنی باتوں پر بے دلیل قائم ہو اور جو قوم کسی بات کو