سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 37

۳۷ قوم بھورے میں بند کر کے بٹھا دی جائے وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی اور نہ کبھی عزت اور عروج کو حاصل کر سکتی ہے۔ہم نے بار ہا دیکھا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے بچوں کو گھروں میں سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں اور انہیں تاکید کرتے رہتے ہیں کہ دیکھنا با ہر نہ جانا ، دیکھنا فلاں فلاں سے نہ ملنا، وہ اپنے ماں باپ کی موجودگی میں تو الگ تھلگ رہتے ہیں لیکن جب ان کے سروں سے ماں باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو وہ اول درجہ کے آوارہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جذبات دبے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ نہ معلوم فلاں فلاں لڑکے میں کیا بات ہے کہ ہمارے ماں باپ ہمیں ان سے ملنے نہیں دیتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ماں باپ سر پر نہیں رہتے تو چونکہ ان کے دل میں مدتوں سے جذبات دبے ہوئے ہوتے ہیں وہ ان سے ایسے شوق اور ایسی محبت سے ملتے ہیں کہ بہت جلد خراب ہو جاتے ہیں۔لیکن دوسرا لڑکا جس کی گو جائز نگرانی کی جاتی ہو مگر اسے لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے بھی منع نہ کیا جاتا ہو وہ جب آوارہ لڑکوں کو دیکھتا اور ان کے انجام پر نظر دوڑاتا ہے تو کبھی غلطی نہیں کرتا اور بالعموم اس کا ایسا مضبوط کیریکٹر رہتا ہے کہ لوگ اس پر ڈورے نہیں ڈال سکتے۔مسلمانوں کے تنزل کا بھی زیادہ تر یہی سبب ہوا کہ وہ غیر مذاہب کی کتب کے پڑھنے سے غافل ہو گئے۔چنانچہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان کسی عیسائی کی کتاب نہیں پڑھیں گے، کسی ہندو کی کتاب نہیں پڑھیں گے کسی اور مذہب والے کی کتاب نہیں پڑھیں گے، صرف اپنے مذہب کی کتاب پڑھتے رہیں گے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چونکہ انہیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ عیسائی کیا کہتے ہیں ، ہندو کیا با تیں پیش کرتے ہیں۔اس لئے جب ہند و یا عیسائی ان سے کسی مذہبی مسئلہ پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ آسانی سے ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔لیکن عیسائی دوسرے مذاہب کی کتب کو خوب غور سے پڑھتے ہیں اور خواہ ان کے سامنے کتنی ہی زبر دست دلیلیں پیش کی جائیں ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔پس بجائے اس کے کہ میں اس قسم کے لٹریچر کی اشاعت کو نا پسند کروں اور جماعت کو اس کے پڑھنے سے روک دوں ،ہمیں تحریک کرتا ہوں کہ جماعت کو اپنی فرصت کے اوقات میں اس قسم کا لٹریچر ضرور پڑھنا چاہئے۔اگر تمہیں معلوم ہی نہیں کہ مخالف کیا کہتا ہے تو تم اس کا جواب کیا دو گے؟ اور اگر ہماری جماعت کے بعض لوگ اتنے ہی کمزور ہیں کہ وہ مخالف کی ایک کتاب پڑھ کر اپنا ایمان چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔تو ایسے لوگوں کو سنبھالنے سے کیا فائدہ۔ایک شاعر نے طنزاً کہا ہے کہ کیا ڈیڑھ چلو پانی سے ایمان بہہ گیا اس نے تو ایک نا جائز چیز کا ذکر کر کے کہا ہے کہ کیا میں اس کا ڈیڑھ چلو پی کر ہی کا فر ہو گیا۔مگر جو جائز باتیں