سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 31

پیچ و تاب اٹھنے لگتے ہیں۔میں اگر کسی کو کہتا ہوں کہ اس نے فلاں بات پر عمل نہ کیا تو جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔تو وہ میری بات کو خوشی سے سنتا اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔اسی طرح میں بوجہ جماعت کا امام ہونے کے وہی بات کہ سکتا ہوں جس میں لوگوں کا فائدہ ہو۔پھر جب کہ جماعت بھی اپنے فائدہ کو بجھتی ہوئی ایک بات پر عمل کرتی ہے اور امام بھی وہی بات کہتا ہے جس میں جماعت کا فائدہ ہو، تو کسی دوسرے کو اس میں دخل دینے کا کیا حق ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ میں ، جس کے ساتھ جماعت کا تعلق ہے، اگر جماعت کے بعض افراد کو ان کی کوتاہی کو دور کرنے کے لئے کوئی تنبیہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہ عمل نہ کیا تو وہ ہماری جماعت میں نہیں رہیں گے تو اس پر انہیں تو بجائے ناراض ہونے کے خوش ہونا چاہئے کہ اب جماعت کم ہو جائے گی۔مگر ہوا یہ کہ وہ مخالفت میں اور بھی بڑھ گئے۔میں نے جیسا کہ ابھی کہا ہے جماعت کی اصلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ خدام الاحمدیہ یا دوسری مجالس میں شامل نہ ہوئے تو ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہے گا اور انہیں جماعت سے الگ سمجھا جائے گا۔یہ فقرہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں کہ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا ، وہ میری جماعت میں سے نہیں۔جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے، وہ میری جماعت میں سے نہیں۔جو شخص بدرفیق کو نہیں چھوڑتا ، وہ میری جماعت میں سے نہیں اور جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا ، وہ میری جماعت میں سے نہیں۔اب اس کے یہ معنی نہیں کہ جو شخص بھی ایسا ہوگا اسے ہم اپنی جماعت سے نکال دیں گے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کا میرے ساتھ کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوگا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ کبھی تو ان کی طرف سے یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ عجیب پیری مریدی ہے، کہ مرید کے عقیدے کچھ ہوں اور پیر کے عقیدے کچھ اور۔اس کی بناء یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں میاں صاحب نے اس امر کی اجازت دے رکھی ہے کہ میرے خلاف عقیدہ رکھ کر بھی ایک شخص بیعت میں شامل ہو سکتا ہے۔اور کبھی یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اگر کوئی ایک بات بھی نہیں مانتا تو اسے جماعت سے نکال دیتے ہیں، اور اس وقت حریت اور آزادی ضمیر کی کوئی پروا نہیں کرتے ، جو اسلام نے ہر مومن کو دے رکھی ہے۔حالانکہ اگر یہ اعتراض درست ہے کہ ہماری جماعت میں حریت اور آزادی ضمیر کی کوئی پروانہیں کی جاتی ، تو وہ اعتراض کیوں کیا تھا کہ اس جماعت میں پیر کے عقیدے کچھ ہیں اور مریدوں کے عقیدے کچھ اور اختلاف عقائد رکھنے کے باوجود لوگوں کو بیعت میں شامل کر لیا جاتا ہے اور اگر یہ درست ہے کہ بعض باتوں میں اختلاف رکھتے ہوئے بھی ایک شخص ہمارے نظام میں شامل رہ سکتا