سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 30

سے یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ محض ظاہری شمولیت کافی نہیں جب تک وہ عملی رنگ میں بھی کوئی کام نہ کریں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے عملی نمونہ سے ثابت کردیں گے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی واحد جماعت آپ ہی ہیں اور یہ ثبوت اسی طرح دیا جا سکتا ہے کہ آپ لوگ اپنے اوقات کی قربانی کریں، اپنے مالوں کی قربانی کریں، اپنی جانوں کی قربانی کریں، اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور احمدیت کی ترویج کے لئے دن رات کوشش کرتے رہیں۔اگر ہم یہ نہیں کرتے اور محض اپنا نام لکھا دینا کافی سمجھتے ہیں تو ہم اپنے عمل سے خدا تعالیٰ کی محبت کا کوئی ثبوت نہیں دیتے۔پس صرف ان مجالس میں شامل ہونا کافی نہیں بلکہ اپنے اعمال ان مجالس کے اغراض و مقاصد کے مطابق ڈھالنے چاہئیں۔خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے خدمت احمدیت کو ثابت کر دیں۔انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے دین اسلام کی نصرت نمایاں طور پر کریں اور اطفال الاحمدیہ کا فرض ہے کہ ان کے اعمال اور ان کے اقوال تمام کے تمام احمدیت کے قالب میں ڈھلے ہوئے ہوں۔جس طرح بچہ اپنے باپ کے کمالات کو ظاہر کرتا ہے، اسی طرح وہ احمدیت کے کمالات کو ظاہر کرنے والے ہوں۔یہی غرض اس نظام کو قائم کرنے کی ہے اور یہی غرض انبیاء کی جماعتوں کے قیام کی ہوا کرتی ہے مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہماری اس تنظیم سے بعض لوگوں میں ایک بے چینی سی پیدا ہو گئی ہے۔چنانچہ تھوڑے ہی دن ہوئے کسی اخبار کا ایک مضمون میرے سامنے پیش کیا گیا جس میں اس بات پر بڑے غصے کا اظہار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے جو شخص خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے سے دور بھاگے گا، وہ خدام الاحمدیہ سے دور نہیں بھاگے گا، بلکہ وہ احمدیت سے دور بھاگے گا۔کہتے ہیں ماں سے زیادہ چاہے کٹنی کہلائے“ بھلا ان کو احمدیوں سے کیا واسطہ۔ایک جماعت کا امام ایک نظام کا حکم دیتا ہے اور جماعت والے اس نظام کو قبول کر لیتے ہیں۔وہ اپنی جماعت سے راضی اور جماعت اپنے امام سے راضی۔پھر ان کو بیٹھے بٹھائے کیوں