سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 27

۲۷ کہ سارے صحابی ایسے تھے اور کیوں ان کا نام زبان پر آتے ہی ان کے لئے ہم دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی لئے کہ منافق نہایت قلیل تھے اور قلیل التعداد ہونے کی وجہ سے وہ کسی شمار میں نہیں آسکتے تھے۔ایک حسین انسان کسی خفیف سے جسمانی نقص کی وجہ سے، مثلاً اگر اس کی انگلی پر مستہ نکلا ہوا ہو، یا فرض کرو اس کی کمر پر کوئی داغ ہو ، بدصورت نہیں کہلا سکتا اور نہ ملتے یا داغ کی وجہ سے اس کے حسن میں کوئی فرق آ سکتا ہے۔اگر ہم ایسے شخص کو حسین کہیں تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ تم نے اس بات کا استثی نہیں کیا کہ اس کی کمر پر داغ ہے۔یا اس بات کا استثنا نہیں کیا کہ اس کی انگلی کی پشت پر منہ نکلا ہوا ہے۔بے شک منہ ایک نقص ہے، بے شک داغ ایک نقص ہے، لیکن ایسے مقام پر منتے یا داغ کا ہونا جہاں نظر نہ پڑ سکے یا خاص طور پر وہ حسن کو بگاڑ کر نہ رکھ دے حسن کے خلاف نہیں ہوتا۔ایک شخص جسے سال دوسال میں ایک دو دن کے لئے نزلہ ہو جاتا ہے یا چھینکیں آنے لگ جاتی ہیں، اسے لوگ بیمار نہیں کہتے بلکہ تندرست ہی کہتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی جماعت میں منافقوں کی قلیل تعداد موجود ہو تو اس قلیل تعداد کی بناء پر وہ خراب نہیں کہلاتی۔غرض ہم صحابہ کو اس لئے اچھا کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ بعض ظاہر میں صحابہ کہلانے والے ایسے تھے جو منافق تھے۔پھر بھی منافقوں کی تعداد نہایت قلیل تھی۔ورنہ ظاہری طور پر جس طرح انصار اور مہاجر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ، اسی طرح منافق ایمان لائے تھے۔وہ اسی زمانہ میں ایمان لائے ، جس زمانہ میں صحابہ ایمان لائے۔انہوں نے بیعت کے وقت وہی کلمات کہے جو صحابہؓ نے کہے اور انہوں نے بھی اسی رنگ میں اظہار عقیدت کیا جس رنگ میں صحابہ نے کیا۔مگر صحابہ تو کچھ عرصہ کے بعد اپنے اخلاص میں اور بھی ترقی کر گئے لیکن منافق اپنے اخلاص میں کم ہوتے چلے گئے۔پس کوئی ایسا ظاہری فرق نہیں جس کی بناء پر ایک کو ہم صحابی کہیں اور دوسرے کو نہ کہیں۔سوائے اس کے کہ ایک نے اپنی منافقت کے اظہار سے بتایا کہ وہ صحابی کہلانے کا مستحق نہیں اور دوسرے نے اپنے ایمان اور اخلاص کے اظہار سے بتادیا کہ وہ صحابی کہلانے کا مستحق ہے۔ورنہ ظاہری طور پر منافق بھی نمازوں میں شامل ہو جاتے تھے اور منافق بھی صحابہ کے ساتھ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوتے تھے۔چنانچہ صریح طور پر حدیثوں میں آتا ہے کہ بعض غزوات میں منافق بھی شامل ہوئے۔غزوہ تبوک میں بھی بعض ایسے شقی القلب اور منافق لوگ تھے جو آگے بڑھ کر راستہ میں اس لئے چھپ کر بیٹھ گئے تھے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے آتے ہوں تو آپ کو قتل کر دیں اور وہ غزوہ تبوک میں صحابہ کی صف میں شامل ہوئے۔مگر باوجود اس کے صحابہ کی تعریف میں کوئی کمی نہیں آتی۔ان کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔اور ہر مسلمان کا دل صحابہ کی محبت