سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 28
۲۸ اور اُن کی تعریف سے لبریز ہوتا ہے۔کیونکہ منافقوں کی تعداد اتنی قلیل اور صحابہ کی تعداد اتنی کثیر تھی اور پھر صحابہ اپنے اخلاص اور اپنی محبت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ منافق پیٹھ کے پیچھے چھپے ہوئے ایک داغ یا انگلی کے ایک منہ سے بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتے تھے اور ایسا داغ یا متہ کسی حسین کے حسن میں کوئی فرق نہیں لایا کرتا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اس قسم کے لوگ تھوڑے ہوں گے۔کیونکہ خدا نے ہماری جماعت کو صحابہ کے نقش قدم پر بنایا ہے اور یقینا ہم میں منافقوں کی تعداد اتنی قلیل ہے کہ وہ جماعت کے لئے کسی صورت میں بدنامی کا موجب نہیں ہو سکتے۔بے شک میں جماعت کو اور زیادہ پاک کرنے ،اسے روحانی ترقی کے میدان میں پہلے سے اور زیادہ قدم آگے بڑھانے اور اسے اپنے جسم پر سے معمولی معمولی دھبے اور داغ دور کرنے کی ہمیشہ تلقین کیا کرتا ہوں اور جماعت کو اپنے خطبات کے ذریعہ سے ہمیشہ نصیحت کرتا رہتا ہوں۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ جماعت کے معتد بہ حصہ میں نقص پائے جاتے ہیں۔نہ ہی جماعت ان کمزوروں کی وجہ سے بدنام کبھی جاسکتی ہے۔معترضین کی نگاہ میں تو جماعت ہر وقت بد نام ہی ہوتی ہے اور جو شخص اعتراض کرنے پر ایک دفعہ تل جائے وہ بہانے بنا بنا کر اعتراض کیا کرتا ہے۔مگر ان کی نگاہ میں جماعت کی جو بدنامی ہوتی ہے وہ شرفاء کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔پس جب میں کہتا ہوں کہ جماعت ان لوگوں کی وجہ سے بدنام نہیں ہو سکتی۔اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ شرفاء کے طبقہ میں جماعت بدنام نہیں ہو سکتی۔ورنہ مخالف کی نگاہ میں تو ہم ہمیشہ بدنام ہی ہیں۔خواہ ہم میں بعض کمزور افراد ہوں یا نہ ہوں اور دراصل ایسے لوگوں کی نگاہ میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بدنام ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بدنام ہیں اور اسی طرح اور تمام انبیاء اور مامورین بدنام ہیں۔بلکہ انبیاء تو کیا ان کی نگاہ میں خدا تعالیٰ بھی بدنام ہے۔تم بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر دیکھ لو وہ ہمیشہ اس قسم کے سوالات کرتے ہوئے دکھائی دیں گے کہ خدا نے اس دکھ کی دنیا میں ہمیں کیوں پیدا کیا۔پھر وہ بر ملا کہتے ہیں۔نعوذ باللہ خدا قحط ڈالتا ہے۔وہ بیماریاں پیدا کرتا ہے۔وہ زلزلے بھیجتا ہے، وہ ظلم کرتا ہے۔وہ امن بر باد کرتا ہے۔غرض لوگ تو کہا کرتے ہیں 'پانچوں عیب شرعی مگر ان کے نزدیک سینکڑوں عیب خدا تعالیٰ میں پائے جاتے ہیں اور جن کی نگاہ میں خدا تعالیٰ میں بھی عیب ہی عیب ہوں۔ان کے نزدیک اس کے انبیاء کب عیوب سے پاک سمجھے جاسکتے ہیں۔پس میں ایسے شقی القلب لوگوں کا ذکر نہیں کرتا۔وہ انسانیت سے دور چلے گئے اور انصاف کا دامن انہوں نے چھوڑ دیا۔میں صرف شریف الطبع لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی