سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 26

۲۶ انصار اللہ اور دیگر ذیلی تنظیموں میں شمولیت کی اہمیت اور ان تنظیموں کے فرائض تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دوستوں کو معلوم ہے کہ میں نے جماعت کو تین حصوں میں منظم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ایک حصہ اطفال الاحمدیہ کا یعنی پندرہ سال تک کی عمر کے لڑکوں کا، ایک حصہ خدام الاحمدیہ کا یعنی سولہ سے چالیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا اور ایک حصہ انصار اللہ کا جو چالیس سال سے اوپر کے ہوں خواہ کسی عمر کے ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ نو جوان جو خدام الاحمدیہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا ہے لیکن وہ اس میں شامل نہیں ہوا، اس نے ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہے مگر وہ انصار اللہ کی مجلس میں شامل نہیں ہوا تو اس نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر کوئی بچہ اطفال الاحمدیہ میں شامل ہونے کی عمر رکھتا ہے اور اس کے ماں باپ نے اسے اطفال الاحمدیہ میں شامل نہیں کیا، تو اس کے ماں باپ نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔مگر مجھے امید رکھنی چاہئے کہ ایسے لوگ یا تو بالکل نہیں ہوں گے۔یا ایسے قلیل ہوں گے کہ ان قلیل کو کسی صورت میں بھی جماعت کے لئے کسی دھبہ یا بدنامی کا موجب قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ قلیل استنلی کسی جماعت کے لئے بدنامی کا موجب نہیں ہوا کرتے۔آج ہم صحابہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور بسا اوقات کہتے ہیں کہ وہ سب کے سب ایسے تھے۔حالانکہ ان صحابہ کہلانے والوں میں سے بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کا نام قرآن کریم میں منافق رکھا گیا ہے۔پھر ہم کیوں کہتے ہیں