سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 122
۱۲۲ بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے من انداز قدت را مے شناسم کہ تو کسی رنگ کا کپڑا پہن کر آ جائے۔تو کوئی بھیس بدل لے۔میں تیرے دھو کے میں نہیں آسکتا کیونکہ میں تیرا قد پہنچانتا ہوں۔اسی طرح چاہے خلافت کا دشمن حضرت خلیفتہ المسیح اول کی اولاد کی شکل میں آئے اور چاہے وہ کسی بڑے اور مقرب صحابی کی اولاد کی شکل میں آئے۔ایک مخلص آدمی اسے دیکھ کر یہی کہے گا کہ بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش من انداز قدت رامے یعنی تو کسی رنگ میں بھی آ اور کسی بھیس میں بھی آ۔میں تیرے دھو کہ میں نہیں آ سکتا۔کیونکہ میں تیری چال اور قد کو پہچانتا ہوں۔تو چاہے مولوی محمد علی صاحب کا جبہ پہن لے۔چاہے احمد یہ انجمن اشاعت اسلام کا جبہ پہن لے یا حضرت خلیفہ اسیح اول کی اولاد کا جبہ پہن لے۔میں تمہیں پہچان لوں گا اور تیرے دھوکہ میں نہیں آؤں گا۔مجھے راولپنڈی کے ایک خادم نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ شروع شروع میں اللہ رکھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مری کے امیر کے نام مجھے ایک تعارفی خط لکھ دو۔میں نے کہا میں کیوں لکھوں۔مری جا کر پوچھ لو کہ وہاں کی جماعت کا کون امیر ہے۔مجھے اس وقت فورا خیال آیا کہ یہ کوئی منافق ہے۔چنانچہ میں نے لاحول پڑھتارہا اور سمجھا کہ شاید مجھ میں بھی کوئی نقص ہے جس کی وجہ سے یہ منافق میرے پاس آیا ہے۔تو احمدی عقلمند ہوتے ہیں ، وہ منافقوں کے قریب میں نہیں آتے۔کوئی کمزور احمدی ان کے قریب میں آجائے تو اور بات ہے، ورنہ اکثر احمدی انہیں خوب جانتے ہیں۔اب انہوں نے لاہور میں اشتہارات چھاپنے شروع کئے ہیں۔جب مجھے بعض لوگوں نے اطلاع دی تو میں نے کہا گھبراؤ نہیں۔پیسے ختم ہو جائیں گے تو خود بخود اشتہارات بند ہو جائیں گے۔مجھے لاہور سے ایک دوست نے لکھا کہ ان لوگوں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ وہ اخباروں میں شور مچائیں اور اشتہارات شائع کریں۔وہ دوست نہایت مخلص ہیں اور منافقین کا بڑے جوش سے مقابلہ کر رہے ہیں۔مگر منافق اسے کذاب کا خطاب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص یونہی ہمارے متعلق خبریں اڑاتا رہتا ہے۔لیکن ہم اسے جھوٹا کیوں کر کہیں۔ادھر ہمارے پاس یہ خبر پہنچی کہ ان لوگوں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ اشتہارات شائع کئے جائیں اور ادھر لاہور کی جماعت نے ہمیں ایک اشتہار بھیج دیا جو ان منافقین نے شائع کیا تھا اور جب بات پوری ہوگئی تو ہم نے سمجھ لیا کہ اس