سبیل الرّشاد۔ حصہ اول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 229

سبیل الرّشاد۔ حصہ اول — Page 121

۱۲۱ مسلمان مرد، عورتیں اور بچے سب مل کر ان پر حملہ کرتے اور ایسا دیوانہ وار مقابلہ کرتے کہ کفار کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیتے۔وہ کہتا ہے کہ اگر کفار یہ غلطی نہ کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی بجائے کسی اور جہت میں حملہ کرتے تو وہ کامیاب ہوتے۔لیکن وہ سیدھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کا رخ کرتے تھے اور مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت تھی۔وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن آپ کی ذات پر حملہ آور ہو۔اس لئے وہ بے جگری سے حملہ کرتے اور کفار کا مونہ توڑ دیتے۔ان کے اندر شیر کی سی طاقت پیدا ہو جاتی تھی اور وہ اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے۔یہ سچی محبت تھی۔جو صحابہ کورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔آپ لوگ بھی ان جیسی محبت اپنے اندر پیدا کریں۔جب آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے تو ان جیسی محبت بھی پیدا کریں۔آپ کے نام کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔اس لئے تمہیں بھی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھو اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہوگی۔خدام کی بھی ضرورت ہوگی اور اطفال کی بھی ضرورت ہوگی۔ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔اکیلا نبی کوئی کام نہیں کر سکتا۔دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دئے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جماعت دی۔اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی۔تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی قائم رہیں اور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی۔کیونکہ جب دنیا دیکھے گی کہ جماعت کے لاکھوں لاکھ آدمی خلافت کے لئے جان دینے پر تیار ہیں تو جیسا کہ میور کے قول کے مطابق جنگ احزاب کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ پر حملہ کرنے کی وجہ سے حملہ آور بھاگ جانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔اسی طرح دشمن ادھر کا رخ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔وہ سمجھے گا کہ اس کے لئے لاکھوں اطفال، خدام اور انصار جانیں دینے کے لئے تیار ہیں۔اس لئے اگر اس نے حملہ کیا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔غرض دشمن کسی رنگ میں بھی آئے جماعت اس سے دھوکہ نہیں کھا ئیگی۔کسی شاعر نے کہا ہے۔